چار ماہ میں ہی عمر شیخ سی سی پی او لاہور کے عہدے سے فارغ

چار ماہ میں ہی عمر شیخ سی سی پی او لاہور کے عہدے سے فارغ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ غلام محمود ڈوگر کو تعینات کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں
Author:

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

چار ماہ میں ہی عمر شیخ سی سی پی او لاہور کے عہدے سے فارغ

5 گھنٹے قبلPUNJABPOLICEWEBSITE/@farhanz24پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ غلام محمود ڈوگر کو نیا سی سی پی اور لاہور تعینات کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 20 کے عمر شیخ کو ڈپٹی کمانڈنٹ پنجاب کانسٹیبلری فاروق آباد کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ نئے سی سی پی او غلام محمود ڈوگر ان دنوں سینٹرل پولیس آفس میں ڈی آئی جی ٹیکنیکل پروکیورمنٹ کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفیکشین میں عمر شیخ کو عہدے سے ہٹانے کی کوئی وجوہات تو نہیں بتائی گئیں لیکن وہ سینئر افسران کے ساتھ اختلافات اور اپنے رویے اور بیانات کی وجہ سے اکثر سرخیوں میں رہے۔یہ بھی پڑھیےعمر شیخ کی تعیناتی اور صوبے کے آئی جی کا تبادلہ کیا پنجاب کے آئی جی شعیب دستگیر عمر شیخ کی وجہ سے عہدے سے علیحدہ ہوئے؟یہ بات تو واضح ہے کہ گزشتہ برس 9 ستمبر کو سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب شعیب دستگیر کو عہدے سے ہٹائے جانے کے پس منظر میں لاہور کے سی سی پی او کے عہدے پر عمر شیخ کی تعیناتی کا معاملہ بھی تھا۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اس سلسلے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم کوئی افسر لگائیں اور کوئی آ کر کہے کہ یہ نہ لگائیں، یہ نہیں ہو سکتا۔‘PUNJAB GOVTشعیب دستگیر نے بھی میڈیا کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ان کے ایک بیان سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹائے جانے والے شعیب دستگیر گریڈ 22 کے افسر ہیں۔ وہ اس کمیٹی کا بھی حصہ تھے جس نے عمر شیخ کی گریڈ 20 سے 21 میں ترقی کے خلاف سخت رائے دی تھی، جس کے بعد انھیں ترقی نہ مل سکی۔شعیب دستگیر کی عمر شیخ سے ناراضگی کی ایک وجہ عمر شیخ کا ایک متنازع بیان بتایا جاتا تھا۔ شعیب دستگیر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ’تعیناتی کے بعد لاہور کے نئے سربراہ نے اپنے ماتحت افسران کا ایک اجلاس بلایا اور اس میں کہا کہ وہ ان کی بات پر کان دھریں اور آئی جی کی کسی ہدایت پر عمل نہ کریں۔‘شعیب دستگیر کے مطابق انھوں نے اس صورتحال کے بارے میں وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم کو آگاہ کیا اور ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا کہ لاہور پولیس کے سربراہ کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ادھر عمر شیخ نے سابق آئی جی سے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر ان تک پہنچایا گیا۔تاہم شعیب دستگیر نے ان کی معافی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اس صورتحال کے بعد حکومت نے شعیب دستگیر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر گریڈ 21 میں کام کرنے والے ان کے ماتحت پولیس افسر انعام غنی کو پنجاب پولیس کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا تھا۔موٹروے ریپ کیس سے متعلق بیانسابق سی سی پی او لاہور نے موٹروے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے بعد متعدد ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ: ’تین بچوں کی ماں اکیلی رات گئے اپنے گھر سے اپنی گاڑی میں نکلے تو اسے سیدھا راستہ لینا چاہیے ناں؟ اور یہ بھی چیک کرنا چاہیے کہ گاڑی میں پیٹرول پورا ہے بھی یا نہیں۔۔۔‘انھوں نے اپنے اس بیان پر معافی مانگ لی تھی لیکن ان پر شدید تنقید کی گئی تھی۔Let’s block ads! (Why?)
مزید پڑھیں
Author:

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے