والدہ کی شکایت پر کارروائی، چائلڈ پورنوگرافی کا ملزم گرفتار

والدہ کی شکایت پر کارروائی، چائلڈ پورنوگرافی کا ملزم گرفتار
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں کارروائی کر کے بچی کو ہراساں کرنے اور غیر اخلاقی تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

مزید پڑھیں
Author:

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

والدہ کی شکایت پر کارروائی، چائلڈ پورنوگرافی کا ملزم گرفتار

1 جنوری 2021، 20:08 PKTپاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں کارروائی کر کے ایک بچی کو ہراساں کرنے اور غیر اخلاقی تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنے والے ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ایف آئی کے مطابق ملزم کا موبائل چیک کیا گیا تو متاثرہ بچی کی کئی تصاویر بھی ملی ہیں۔ گرفتار ملزم قاری ہے جو بچی کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی حرکتیں بھی کیا کرتا تھا۔ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کے مطابق ملزم بچی کو غیر اخلاقی تصاویر کے ذریعے بلیک میل کر کے پیسوں کا تقاضہ کر رہا تھا۔ملزم نے بچی کی تصاویر اس کی والدہ کو بھیج کر پیسوں کا مطالبہ کیا اور رقم نہ دینے پر بچی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی بھی دی۔یہ بھی پڑھیے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے 13 برس کی بچی کی والدہ کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گلشن اقبال سے گرفتار کیا ہے۔ Thinkstockپورنو گرافی سے کیا مراد ہے؟انسدادِ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2015 کی چائلڈ پورنو گرافی کی شق کے مطابق اگر کوئی شخص کسی بچے کی فحش تصویر یا ویڈیو بناتا ہے یا جنسی استحصال کے دوران ایسا کرتا ہے تو یہ تصاویر بنانے والا، اسے فروخت کرنے والا یا اسے منتقل کرنے والا جرم کا مرتکب ہو گا۔ جس کی سزا زیادہ سے زیادہ سات سال قید یا پچاس لاکھ روپے جرمانہ یا دنوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ متاثرہ بچے کے والدین یا کفیل حکام کو متعلقہ مواد انٹرنیٹ سے ہٹانے کے لیے بھی درخواست کرسکتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی کسی بالغ شخص کی عریاں تصاویر یا ویڈیوز بناتا ہے، شیئر کرتا ہے یا فروخت کرتا ہے تو وہ بھی جرم کا مرتکب ہے جس کی سزا تین سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔سائبر کرائم کے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر کسی کو ہراساں کرتا ہے، ناشائستہ گفتگو کرتا ہے، یا ایسا عمل کرتا ہے جس سے ذہنی دباؤ ہو تو یہ بھی جرم ہے جس کی سزا تین سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔Let’s block ads! (Why?)
مزید پڑھیں
Author:

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے