سعودی عرب میںمقیم غیر ملکیوں کی اولاد کے اقاموںکے بارے اہم فیصلہ

محکمہ پاسپورٹ کے ترجمان بدر القرینی نے کہا کہ مقیم غیر ملکیوں کی زیر تعلیم اولاد کے اقاموں کی تجدید 25برس کی عمر تک ہی ہوسکے گی۔القرینی نے عکاظ اخبار سے گفتگو میں کہا کہ مقیم غیر ملکیوں کی بیٹیوں کے اقاموں کی تجدید شادی نہ ہونے کی صورت ہی میں ہوگی علاوہ ازیں سعودی اسکولوں اور جامعات میں داخلے کا ثبوت بھی اولاد کے اقامے کی تجدید کیلئے پیش کرنا ہوگا۔القرینی سے دریافت کیا گیا تھا کہ کیا مقیم غیر ملکی کی زیر تعلیم اولاد کے اقاموں کی تجدید 25برس سے زیادہ عمر کے بعد بھی کی جاسکتی ہے یا نہیں؟مقیم غیر ملکیوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ انکی اولاد زیر تعلیم ہے۔ بعض شعبے ایسے ہیں کہ جن میں تعلیم کا دورانیہ زیادہ ہے۔ مثال کے طورپر میڈیسن اور انجینیئرنگ وغیرہ میں زیر تعلیم طلباءکی عمر 25برس سے تجاوز کر جاتی ہے۔ایسی حالت میں انکے اقاموں کی تجدید کا مسئلہ حل کیا جانا چاہئے۔ اندرون و بیرونی ممالک کے تعلیمی اداروں میں داخلے کے سرٹیفکیٹ پر تجدید کردینی چاہئے۔ القرینی نے یہ بات صاف کردی کہ اگر مقیم غیر ملکی کی اولاد کی عمر 25برس سے تجاوز کر جائیگی اور وہ زیر تعلیم بھی ہوگا تب بھی اس کے اقامے کی تجدید نہیں ہوگی۔اقامے کی تجدید کی انتہائی عمر 25برس ہے ۔ 25برس تک بھی ان کے اقاموں کی تجدید ہوگی جو اسکول یا کالج سے داخلہ سرٹیفکیٹ پیش کرینگے۔ لڑکیوں کے اقامے کی تجدید شادی نہ ہونے تک ہوتی رہیگی۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment