وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کون سے اہم ترین مطالبات ماننے سے انکار کردیا ہے؟

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے وزیراعظم کا اہم ترین مطالبہ ماننے سے انکار کردیا، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کے 11 ارب ڈالرز بیرونی بینکوں میں پڑے ہیں، معلومات کے حصول کیلئے دبئی اور سعودی عرب سے بھی ریکارڈ منگوایا، تاہم سعودی عرب اور دبئی نے اقامہ ہولڈرز کی معلومات نہیں دیں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کے 11 ارب ڈالرز بیرونی بینکوں میں پڑے ہیں ۔ پیر کو سینئر صحافیوں کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت الزام نہیں لگاتی ثبوتوں کی بنیاد پر جیل میں ڈالتی ہے۔ پاکستانیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے 26 ممالک کیساتھ معاہدوں پردستخط کیے۔عمران خان نے کہا کہ ان 26 ممالک سے اب تک جوڈیٹا آیا ہے اس کے مطابق پاکستانیوں کے 11 ارب ڈالرز بینکوں میں پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دبئی اور سعودی عرب سے بھی ریکارڈ منگوایا ہے تاہم سعودی عرب اور دبئی نے اقامہ ہولڈرز کی معلومات نہیں دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب پتا لگ رہا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم، وزیر دفاع اور دیگر نے اقامہ کیوں لیا۔ وزیراعظم کا مزید کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔ اداروں کو ٹھیک کریں گے جس سے ڈالر کو نیچے لیکر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ہرسال 10ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔ منی لانڈرنگ کیخلاف سخت قانون لارہے ہیں۔ منی لانڈرنگ کیخلاف 7روز میں قانون لارہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزراء کی 100روزہ کارکردگی کی رپورٹ لی ہے۔ تمام وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لوں گا۔ہوسکتا ہے ہم کئی وزیروں کوتبدیل کردیں۔انہوں نے کہا کہ میں اعظم سواتی یا کسی وزیرکی انکوائری میں مداخلت نہیں کرتا۔میں خود چاہتا ہوں کہ میرے نیچے کام کرنے والے وزراء بے نقاب ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نیب بڑا ادارہ ہے لیکن چھوٹے چھوٹے لوگوں پر ہاتھ ڈال رہا ہے۔ ابھی تک ہم نے اپوزیشن کے کسی رہنماء کے خلاف کیس نہیں کیا بلکہ یہ سب پرانے کیسز ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیوروکریٹ جو بھی ٹھیک کام نہیں کرے گا تواس کوفارغ کردیں گے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment