غیررجسٹرڈ موبائل فونز استعمال کرنے والوں کےلئے بڑی خبر رجسٹرڈ کروانے کے لئے کہاں جانا پڑے گا؟ ایف بی آر نے طریقہ بتا دیا

ایف بی آر نے غیررجسٹرڈ موبائل فونز کو رجسٹر کروانے کا طریقہ کار وضع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کو رضاکارانہ طور پر قریبی کسٹم کلکٹریٹ جا کر درخواست دینا ہوگی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے اسمگل شدہ موبائل فونز کے خلاف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 31 دسمبر کی مہلت کے بعد اسمگل ہونے والے موبائل فون بند ہو جائیں گے۔مقامی طور پر بننے والے موبائل فونز کی پیداوار کو فروغ دیا جائے گا۔ اس بات کا فیصلہ جمعہ کے روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اس حوالے سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ 82 ملین کے موبائل فونز پر ٹیکس ادا ہو رہا ہے۔ڈھائی ارب روپے کے موبائل فونز غیر قانونی طریقے سے آ رہے ہیں جن پر ٹیکس ادا نہیں ہو رہا۔
اسی لیے اب اسمگل شدہ موبائل فونز کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے ڈی آئی آر بی ایس سسٹم کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ 31 دسمبر کی مہلت کے بعد اسمگل ہونے والے موبائل فون بند ہو جائیں گے۔ جبکہ مقامی طور پر بننے والے موبائل فونز کی پیداوار کو فروغ دیا جائے گا۔ وزیراطلاعات نے مزید بتایا ہے کہ 31 دسمبر تک پہلے سے استعمال شدہ موبائل فونز کی اگر تصدیق کروا لی جائے، تو ایسے میں یہ موبائل فونز بلاک نہیں کیے جائیں گے۔
تاہم 31 دسمبر کے بعد پاکستان میں آنے والے تمام سمگل شدہ موبائل فونز بلاک کر دیے جائیں گے۔دوسری جانب عوام کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو غیر رجسٹرڈ موبائل فون استعمال کر رہی ہے جو انہوں نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے توسل سے بیرون ملک سے منگوائے تھے۔تاہم اس حوالے سے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ایف بی آر نے ایسے غیر ملکی اور غیر رجسٹرڈ موبائل فون کے حامل شہریوں کو آسان حل بتا دیا ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ایسے شہری اب اپنا موبائل فون رجسٹر کروا سکتے ہیں اور اس حوالے سے ان کو رضاکارانہ طور پر قریبی کسٹم کلکٹریٹ جانا ہوگا جہاں وہ فیس کے ساتھ اپنے موبائل فون کو رجسٹر کروانے کی درخواست دیں گے۔تاہم ایف بی آر کسٹم جنرل آرڈر 2018 میں غیررجسٹرڈ موبائل فونز پردیوٹی یا کسٹم کی رقم کے حوالے سے کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment