جرمنی کی پاکستان سے درخواست 2030 تک 30 لاکھ ہنر مند افراد کی ضرورت پاکستان سے رابطہ

جرمنی نے ہنرمند افراد کی کمی پوری کرنے کے لیے پاکستان سے رابطہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق جرمنی نو چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں میں ہنر مندی کا سامنا کرنا پر رہا ہے جس کے باعث انکی معشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ایک جرمن جریدے کے مطابق جرمنی کو 2030 تک 30 لاکھ ہنر مندوں کی ضرورت ہے جس کی کمی پوری کرنے کے لیے وہ پوری دنیا میں موجود ممالک سے رابطے کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب باہر ممالک سے آنے والوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھی امیگریشن قوانین بنائے جا رہے ہیں۔
جرمنی نے افرادی قوت پوری کرنے کے لیے جن ممالک پر نظر گاڑ لی ہے ان میں سے ایک پاکستان بھی ہے۔ جرمنی کی وزارت خارجہ نے پاکستان کی متعلقہ وزارت کے نام خط لکھا ہے ۔

اس خط میں پاکستانی وزارت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ جرمنی میں ہنرمند افراد کی ضرورت پوری کرنے کے حوالے سے ایک منصوبہ تیار کریں جو جرمنی کی مدد کرسکے۔ جرمن جریدے شپیگل کے مطابق پاکستان نے ہنرمند نوجوانوں کو قانونی طور پر جرمنی بھیجنےپر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

پاکستانی وزارت کے نام لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ہنرمندوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں جرمنی بھیجنے کے لیے متعلقہ وزارت یہ بات یقینی بنائے کہ ایسے افراد درکار قابلیت سے مطابقت رکھتے ہوں۔ اس خط میں انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور فولاد کی صنعت کے لیے جیسے شعبوں میں ہنرمند افراد کی ضرورت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ یہ خط 26 اکتوبر کو لکھا گیا تھا ، اگر دونوں حکومتیں اس منصوبے کو لے کر چلیں تو لاکھوں پاکستانیوں کا معیار زندگی بلند ہو سکتا ہے۔ ہوں ۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment