سکھ برادری نے پاکستان کے کون سے ڈیم کا نام گرونانک سے منسوب کرنے اور سارا پیسہ دینے کی پیشکش کردی

پاکستان میں کسی ڈیم کا نام گرو نانک سے منسوب کریں، سارا پیسہ ہم دیں گے، کرتارپور بارڈر کھلنے سے دنیا بھر کی سکھ برادری خوشی سے نہال، پاکستان کو ڈیموں کی تعمیر کیلئے مطلوبہ فنڈز دینے کی پیش کش کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کے درمیان تعلقات کی بہتری کے حوالے سے 28 نومبر کا دن تاریخی ثابت ہوا۔28 نومبر یعنی گزشتہ روز 71 سال کے طویل انتظار کے بعد سکھوں کے سب سے مقدس مقام کرتارپور کیلئے نئے کوریڈور کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا تھا۔ کرتارپور تعمیر کے بعد ہندوستان کے کروڑوں سکھ بنا ویزے کی پابندی کے پاک سرحد پر واقع کرتارپور گرداورے کا دورہ کر سکیں گے۔ کرتارپور میں واقع گردوارے کی سکھوں کیلئے وہی حیثیت ہے کہ جو دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے مکہ اور مدینہ کی ہے۔اسی باعث ہندوستان کے کروڑوں سکھ جو کبھی اپنی پاکستان مخالف بھارتی حکومت کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے، وہ اب مودی سرکاری کیخلاف بغاوت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت، فوج اور عوام کو دعائیں دے رہے ہیں۔ اس تمام معاملے کو پاکستان کی حکومت کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب دنیا کے دیگر ممالک میں مقیم سکھ بھی بڑھ چڑھ کر حکومت پاکستان اور فوج کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔سکھوں کی خوشی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے ایک بڑے مسئلے کو حل کرنے کیلئے مدد فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔ برطانیہ میں مقیم سکھوں نے پیش کش کی ہے کہ وہ پاکستان میں ایک ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ برطانیہ میں مقیم سکھوں نے پیش کش کی ہے کہ اگر حکومت پاکستان کسی ڈیم کا نام گرو نانک سے منسوب کرتی ہے، تو ایسے میں اس ڈیم کی تعمیر کیلئے تمام معاوضہ وہ خود فراہم کریں گے۔ تاہم اس حوالے سے حکومت پاکستان نے تاحال کسی قسم کا جواب نہیں دیا۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment