ایف بی آر کی رپورٹ جاری ٹیکس جمع کرانے میں پاک فوج کی کارکردگی اور ادارے کے بارے اہم انکشاف

ایف بی آر کے مطابق پاک فوج باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والا سب سے متحرک ادارہ ہے۔پاک فوج ہر ماہ 39 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ٹیکس ادا کرتی ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے لندن میں میڈیا سے بات چیت کی۔اس بات چیت میں میں انہوں نے ملک کے داخلی اور خارجی امور پر بات کرنے کے علاوہ پاک فوج پر کیچڑ اچھالنے والوں کو بھرپور جواب دیا۔
انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج منظم ادارہ ہےجس پرسب اعتمادکرتےہیں۔فوج دہشتگردوں سےلڑرہی ہےجبکہ یہ کام پولیس کاتھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہرمسئلےکےپیچھےفوج نہیں ہے۔سیاسی اختلافات کوقومی سلامتی پرترجیح نہ دی جائے۔فوج پرالیکشن میں دھاندلی کرانےکاالزام لگایاگیا۔کسی کےپاس دھاندلی کےثبوت ہیں توسامنےلائے۔
انہوں نے مشرف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی سابق آرمی چیف ملک سےباہر نہیں ہے۔مشرف سابق آرمی چیف ضرور ہیں مگر انکی سیاست سے پاک فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے مخالفین کی جانب سے پاک فوج کے بجٹ پر کئیے جانے والے پراپیگنڈا کا بھی جواب دیا ۔انہوں نے مخالفین کو جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے بجٹ کو کم ترین قرار دے دیا۔اس حوالے سے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاک فوج بھی کفایت شعاری کےحق میں ہے۔
پاک فوج کی جانب سے متعلقہ گاڑیاں خریدنے کا خط جعلی ہے۔اس ساری پریس کانفرنس میں اہم ترین انکشاف یہ کیا گیا کہ پاک فوج کاکم ترین بجٹ ہے،40فیصدٹیکس کی مدمیں واپس چلاجاتاہے۔تاہم اب اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ کہ ایف بی آر کے مطابق پاک فوج اسوقت سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والا ادارہ ہے۔ ممبر ایف بی آر نے کہا ہے کہ فوج میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا رجحان بہت زیادہ ہے، اور فوج کا ادارہ اس حوالے سے سب سے زیادہ متحرک ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ٹیکس ریٹرن بھی مقررہ تاریخ سے ایک ماہ پہلے آیا۔ ایف بی آر ممبر ڈاکٹر حامد کے مطابق برّی افواج سے ماہانہ 39 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ٹیکس اکٹھا ہو رہا ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ پاک آرمی کا آڈیٹوریم سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرا رہا ہے، فوج کی جانب سے ٹیکس نہایت پابندی سے جمع کرایا جاتا ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment