ریٹائرمنٹ کی عمر کم، پنشن ختم ، سرکاری ملازمین کو زور کا جھٹکا۔

حکومت نے تنخواہوں اور پنشن کا بوجھ کم کرنے کیلئے اور سول سروس ریفارمز لانے کی تیاریاں شروع کر دیں ،ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد 60 سال سے کم کرکے 55 سال کرنے جبکہ پنشن ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق قومی سطح پر اخراجات میں کمی کی نئی حکمت عملی کے تحت تنخواہوں اور پنشن کا بوجھ کم کرنے کیلئے سول سروس ریفارمزکے تحت سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیادہ عمر 60 سے کم کر کے 55سال کرنے اور مستقبل میں تمام پبلک سیکٹر کمپنیوں، کارپوریشنوں اور

مالیاتی اداروں میں نجی شعبے کی طرز پر بغیر پنشن پرکشش تنخواہ اور الاونسز پر نوکریاں دینے کی تجاویز ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اس تجویز کے بارے میں آئی ایم ایف کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اعلی سطح پر تجویز کی منظوری سے وفاقی سیکرٹریوں کی بڑی تعداد ریٹائر ہوجائے گی۔معاشی اور انتظامی اصلاحات کے ضمن میں یہ سب سے بڑی تجویز ہے جس پر عمل درآمد سے نہ صرف آئندہ 5سال بلکہ مستقبل میں بھی تنخواہوں، مراعات اور پنشن کے بجٹ میں نمایاں کمی کی جاسکے گی۔سول اور ملٹری پنشن کے سالانہ اخراجات گزشتہ سال333.35 ارب روپے تھے جو اب بڑھ کر 346 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، ملٹری پنشن 253 ارب روپے سے بڑھ کر 259.77 ارب روپے اور سول پنشن 80.35 ارب روپے سے بڑھ کر 82.221 ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔ سول حکومت کے اخراجات کا حجم جو گزشتہ مالی سال کے اختتام پر 402.076 ارب روپے تھا 463 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ تجویز چاروں صوبوں میں بھی رائج کرنے کیلئے کوششیں کی جائیں گی۔ حکومت نے تنخواہوں اور پنشن کا بوجھ کم کرنے کیلئے اور سول سروس ریفارمز لانے کی تیاریاں شروع کر دیں ،ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد 60 سال سے کم کرکے 55 سال کرنے جبکہ پنشن ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment