بھارتی وزیر خارجہ سوشما سوراج جواب آگیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ سوشما سوراج کا کہنا تھا کہ 28 نومبر کو کرتار پور کوریڈور کی افتتاحی تقریب میں مدعو کئیے جانے پر پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی بے حد مشکور ہوں۔تاہم انہوں نے اس تقریب میں شرکت سے معذوری ظاہر کردی۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے جب وزارت اعظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا تو اس وقت بھارت سے آئے معروف بھارتی سابق کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ میں ملاقات ہوئی تھی جس میں کرتار پور بارڈر کھولنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی تاہم سکھ برادری کا یہ دیرینہ خواب پورا ہو چکا ہے۔
پاکستانی حکومت نے اس حوالے سے باقاعدہ قدم اٹھاتے ہوئے کرتار پور بارڈر کھولنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد بھارت میں مقیم سکھ کم یونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تاہم اس راستے پر آمد و رفت کیسے ہوگئی اس حوالے سے کرتار پور بارڈر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کا کہنا تھا کہکرتارپوربارڈرکھولنےپرپاکستان اوربھارت کااتفاق ہے۔

کرتارپوربارڈرکھولنےسےمتعلق مزیدمعاملات بات چیت سےطےکریں گے۔انکا کہنا تھا کہ کرتارپور کراسنگ کےحوالےسے2ماڈلزہمارےسامنےہیں۔واہگہ بارڈریاکشمیروالاماڈل اپنایاجائےگا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اوربھارت کےدرمیان رابطےبحال ہیں۔ایسےرابطوں کومیڈیاپرنہیں لایاجاسکتا۔دوسری جانب پاکستانی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ 28 نومبر کو کرتار پور بارڈر کھولے گا اور اس حوالے سے ایک پرشکوہ تقریب کا اہتمام کیا جائے گا جس میں دونوں ممالک کے اعلٰی اور حکومتی حکام شرکت کریں گے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment