تحریک لبیک کی پارٹی پر پابندی لگنے کا امکان، کیا ایسا ہونے جا رہا ہے؟ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ محفوظ ، سپریم کورٹ

کیا آپ سیاسی جماعت پر جرمانہ عائد نہیں کر سکتے یا کیا آپ سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ نہیں کر سکتے؟ جسٹس فائز عیسیٰ کا سوال، رجسٹریشن منسوخ کرنے کا طریقہ کار الگ ہے، تحریک لبیک کو انتخابی نشان سے محروم کرسکتے ہیں اور بغیر نشان کے وہ انتخابات نہیں لڑسکیں گے: اٹارنی جنرل کا جواب۔
تفصیلات کے مطابق جمعرات کو سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔اٹارنی جنرل ایک بار پھر عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ اٹارنی جنرل اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہیں۔

اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا اٹارنی جنرل ماہر معاشیات ہیں ای سی سی کے اجلاس میں ان کا کیا کام اٹارنی جنرل ریاست کا سب سے بڑا لاء افسرہے یا وزیراعظم کا ذاتی ملازم کیوں نہ اٹارنی جنرل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے، ان کے کہنے پر ہم نے کیس 11 بجے رکھا، آپ عدالت کی بے توقیری کر رہے کیا یہ مذاق ہے؟ اٹارنی جنرل کے فرائض میں عدالتی کام ہیں وزیر اعظم کے نہیں، عدالتی حکمنامے میں اٹارنی جنرل کیخلاف آبزرویشن دیں گے، سمجھ نہیں آتی ریاستی عہدیدار اقتدار میں ہوتے ہوئے کسی کے ملازم کیوں بن جاتے ہیں۔
انہیں عوام کے پیسے سے تنخواہیں دی جاتی ہیں، حکومت کو پاکستان کا خیال نہیں۔ معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل اور ججز سمیت ہر کوئی ریاست کا ملازم ہے ،ْ کیا وزیراعظم سپریم کورٹ سے بالا ہیں وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو کہا اور وہ منہ اٹھا کر چل دئیے، اٹارنی جنرل کو وزیراعظم کو بتانا چاہیے تھا کہ انہیں عدالت میں پیش ہونا ہے، اٹارنی جنرل کو وزیراعظم سے معذرت کرنی چاہیے تھی۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ 20 نومبر کو وزارت داخلہ کو ٹی ایل پی کی رجسٹریشن سے متعلق خط لکھا ہے، ہمارا قانون مصنوعی نہیں ہے ،ْالیکشن کمیشن کے لاء آفیسر نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے، الیکشن کمیشن نے قانون پر عمل نہ کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو نوٹس کیے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ آپ ایک جماعت کو نوٹس کریں وہ کہے جہنم میں جاؤ، پھر آپ کیا کرینگی کیا شکریہ کہہ کر کیس ختم کر دیں گی الیکشن کمیشن کہتا ہے ان کا قانون مصنوعی ہے۔
دورانِ سماعت اٹارنی جنرل بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اس موقع پر انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئین میں الیکشن کمیشن کا کام انتخاب کرانا ہے ،ْ پارلیمنٹ کے بنائے الیکشن قوانین میں سقم ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل نے سوال کیا کہ کیا آپ سیاسی جماعت پر جرمانہ عائد نہیں کر سکتی کیا آپ سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ نہیں کر سکتی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ رجسٹریشن منسوخ کرنے کا طریقہ کار الگ ہے، اس پر معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ اپنی غلطی پر پارلیمنٹ کو الزام مت دیں، ہم ہر وقت پارلیمنٹ کے خلاف بات کرتے ہیں، پارلیمنٹ الیکشن قوانین میں بہت کلیئر ہے ،ْ پارلیمنٹ کی خودمختاری کو تسلیم کریں۔ سماعت کے دور ان جسٹس مشیر عالم کے استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فیض آباد دھرنا کیس میں عدالتی حکم کے مطابق پیمرا، آئی ایس آئی اور الیکشن کمیشن کی رپورٹس جمع کروا دی ہیں۔
جسٹس مشیر عالم نے چیرمین پیمرا سے پوچھا کہ کیا ابھی تک کسی آپریٹر کا لائسنس منسوخ کیا گیا۔ جس پر پیمرا کے وکیل نے کہا کہ ایک سے 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ کیا گیا، جس پر معزز جج نے ریمارکس دیے کہ میں لکھ رہا ہوں کہ کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تحریک لبیک کو انتخابی نشان سے محروم کرسکتے ہیں اور بغیر نشان کے وہ انتخابات نہیں لڑسکیں گے۔
اس ہر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ٹی ایل پی دبئی میں مقیم شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے، کیا یہ کیس دوہری شہریت کے قوانین میں آسکتا ہی اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قومی شناختی کارڈ برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی (نائیکوپ) ان پاکستانیوں کیلئے ہے جو ملک سے باہر رہتے ہیں، نائیکوپ رکھنے والا شخص دوہری شہریت کا حامل نہیں ہوتاجس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا نائیکوپ رکھنے والے سے دوہری شہریت کے بارے میں نہیں پوچھنا چاہیے تھا اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے خیال سے پوچھنا چاہیے تھا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن جہاں دھمکیاں دی جائیں، تشدد پر اکسایا جائے وہاں کارروائی ہوسکتی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے فیض آباد دھرنے سے متعلق لیے گئے ازخود نوٹس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment