ملزموں کے خلاف گرفتاریوں کا عمل مزید تیز کر دیا گیا ہے نیب کا بڑا فیصلہ

قومی احتساب بیوروکے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ نہ صرف ہمارا قومی فرض ہے بلکہ نیب کی اولین ترجیح بھی ہے۔ نیب افسران ”احتساب سب کیلئے“ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بلاامتیاز بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے کوشاںہیں۔ ا یک بیان میں انہوں نے کہا کہ نیب نے ملک سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے انسداد بدعنوانی کی مو¿ثر حکمت عملی وضع کی ہے۔ نیب نے اشتہاریوں اور مفروروں کو گرفتار کرنے کیلئے کوششیں تیز کر دیں۔ میگا مقدمات میں مبینہ طور پرملوث بدعنوان عناصرکو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب بڑے پیمانے پر عوام سے دھوکہ دہی، مالی کمپنیاں، بینک فراڈ، بینک نادہندگان، اختیارات سے تجاوز، منی لانڈرنگ اور سرکاری ملازمین کی جانب سے سرکاری فنڈز میں خوردبرد کے مقدمات کی ترجیحی بنیادوں پر قانون کے مطابق تحقیقات کر رہاہے۔ نیب نے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری اور انوسٹی گیشن کا موثر آپریشنل طریقہ کار جس کے تحت سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے اس سے نہ صرف کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اپنی جدید فارنسک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فارنسک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہو لتیں دستیاب ہیںجس سے وائٹ کالر مقدمات کو ٹھوس شواہد اور قانون کی بنیاد پرمنطقی انجام تک پہنچانے میں مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کرپشن پرسپشن انڈیکس کی درجہ بندی میں پاکستان 116 ویں نمبر پر رہا ہے، بدعنوانی کے خلاف کوششوں کے باعث نیب جنوبی ایشیائی ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، نیب کی کوشش سے یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment