پرویز الٰہی اور عثمان بزدار آمنے سامنے آئے تو ؟ کچھ لو اور کچھ دو کرنا پڑتا ہے! دھرنے والوں سے معاہدہ کس لیے کیا ؟ فواد چوہدری نےبڑاانکشاف کردیا

پرویز الٰہی اور عثمان بزدار آمنے سامنے آئے تو ؟ کچھ لو اور کچھ دو کرنا پڑتا ہے! دھرنے والوں سے معاہدہ کس لیے کیا ؟ فواد چوہدری نےبڑاانکشاف کردیا

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی خواہش ہے کہ این آر او مل جائے لیکن عمران خان کبھی این آر او نہیں دیں گے۔جعلی اکاونٹس کے بارے میں سپریم کورٹ کو حکومتی تحقیقات سے بھی آگاہ کریں گے۔آصف زرداری کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ عوام میں کتنے غیر مقبول ہیں؟پرویز الٰہی اور عثمان بزدار آمنے سامنے آئے تو عثمان بزدار کے ساتھ ہوں گے۔دھرنے والوں سے معاہدہ حالات پر امن رکھنے کےلئے کیا۔ بات چیت کے دوران کچھ لو اور کچھ دو کرنا پڑتا ہے۔آسیہ بی بی پاکستان میں ہے۔عدالت کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خوش قسمتی ہے کہ تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہیں۔ ٹی وی انٹرویو اور تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ہر چیز کو کارپٹ کے نیچے ڈالنے کا کلچر بن گیا ۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے کرپشن پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔انہوں نے کہا کہ نیب میں موجودہ حکومت نے ایک چپڑاسی تک نہیں لگایا۔ اگر یہ کہیں کہ حکومت کرپشن کیسز کی پیروی نہ کرے تو یہ ناممکن ہے۔کوئی کسی سے کھربوں روپے کا سوال نہ کرے ۔ پاکستان میں کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جب سیاست شروع کی ان کے پاس سائیکل اور موٹر سائیکل تھی اب ان کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں۔ جب ایسے افراد سے ان کی اس دولت کے بارے میں سوال کریں تو ملک میں جمہوریت خطرے میں آجائے گی۔انہوںنے کہا کہ چوروں سے لوٹی ہوئی رقم واپس لانے کا وعدہ کیا تھا، وہ پورا کرکے دکھائیں گے ۔ انہوں نے کہا جو جمہوریت عام آدمی کی ہی نمائندگی نہ کرے وہ نہیں چل سکتی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے 100 دن پورے ہونے پر وزیراعظم 29 نومبر کو قوم کو اعتماد میں لیں گے۔اچھی ٹیم ملنے تک افسران کی ٹرانسفرز پوسٹنگز ہوتی رہیں گی ۔وزراءکو کارکردگی پر ہٹانا وزیراعظم کا استحقاق ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment