اردو زاویہ کے پلیٹ فارم پر آپ سی ایس ایس آفیسر کا خواب ملاحظہ فرمائیں

یہ ایک حقیقت ہے کہ والدین جب بھی اپنے بچے کو اسکول داخل کرواتے ہیں تو ان کی خواہش ہوتی ہے‘ ان کے خواب ہوتے ہیں کہ ان کا بچہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر‘ انجینئر‘ پائلٹ یا افسر بنے۔ کالج دور کی بات ہے‘ اپنے ایک کلاس فیلو سے استفسار کیا کہ مستقبل کے کیا ارادے ہیں تو انہوں نے بلاتردد کہاکہ اچھے نمبروں سے گریجویشن کروں گا پھر ایک ڈیڑھ سال خوب تیاری کر کے مقابلے کا امتحان دوں گا اور پھر سی ایس ایس کے ذریعے افسری۔ اس کی بات ہماری سمجھ سے بالاتر تھی۔ دوست نے مزید کہا،” معلوم ہے! سی ایس ایس کیا ہوتا ہے؟ میرے ماموں بتاتے ہیں کہ جو اس مقابلے کے امتحان میں پاس ہو کر افسر لگتا ہے سمجھو اس کے آدھے پاکستان میں تعلقات ہو جاتے ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ جب ڈیڑھ دو سو ٹرینی افسر سال سوا سال ایک ساتھ رہیں گے‘ یارانہ بنے گا اور افسر بننے کے بعد ملک اور دنیا کے کونے کونے میں خدمات فراہم کریں گے‘ یہ افسران بیوروکریسی کا حصہ بنیں گے تو اندازہ لگا لیں“۔ اپنے دوست کی گفتگو بجا لیکن چند سال بعد وہی دوست ایک پرائیویٹ کمپنی میں کلرک کی پوسٹ پر کام کرتے ملا۔ اسے اس کی پرانی یادوں کو کیا یاد دلاتا بخوبی اندازہ ہوا کہ ایک غریب کا بچہ افسر بننے کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ افسر بننے کے خواب انہی کے پورے ہوتے ہیں جن کے خاندان بیوروکریٹ ہوں‘ ٹیکنوکریٹ ہوں‘ وزیر مشیر ہوں۔ اسی دوست نے بعد میں بتایا کہ دو مرتبہ مقابلے کا امتحان پاس کیا لیکن غربت اور فیملی گراﺅنڈ نہ ہونے کے باعث باہر نکال دیا گیا۔ یہ میرا مقدر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بورڈ والوں کا غریب اور متوسط طبقے کےلئے مقابلہ ہوتا ہے۔ آپ اندازہ کریں جس گھر کا سربراہ‘ بڑا بھائی سی ایس پی افسر ہو کیا اس کا چھوٹا بھائی افسر نہیں بنے گا تو کیا بنے گا۔

ایک سی ایس پی افسر نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا کہ اسے مجبوراً کراچی میں منی بس میں سفر کرنا پڑا ،”میرے ساتھ سیٹ پر دوسرا شخص اِردگرد کے ماحول سے بے نیاز معلومات عامہ کی کتاب میں محو تھا۔ سی ایس ایس کی تیاری سے بخوبی واقف تھا اور چھٹی حس نے صحیح کام کیا‘ اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”بھائی صاحب کیسے ہیں آپ ؟ بڑے اسٹڈی میں مصروف ہیں ۔لگتا ہے آپ سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کر رہے ہیں“۔ سی ایس ایس کا نام سن کر اس کی بانچھیں کھل گئیں جواب دیا: ”جی جی بالکل ! آپ نے صحیح پہچانا ۔سی ایس ایس کرنا چاہتا ہوں“۔ موصوف سے استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کسٹم میں کلرک ہیں اور وہاں کے افسروں کی شان و شوکت دیکھ کر ان کو بھی افسر بننے کا شوق ہوا۔ اس امیدوار نے پوچھا کہ ”سر ! آپ کو کیسے معلوم ہوا؟“ تو اسے بتایا کہ بھائی صاحب آپ کا اس طرح جنرل نالج کا مطالعہ سی ایس ایس کی تیاری کو ہی ظاہر کر رہا تھا“۔ پھر وہ صاحب صدر ایک ہوٹل پر لے گئے چائے پراٹھے سے تواضع کی۔ اس دوران اسے بتایا کہ بھائی سی ایس ایس کی تیاری بسوں میں نہیں ہوتی آپ شادی شدہ ہو، وہ ایک اضافی ذمہ داری‘ اگر واقعی سنجیدہ ہیں اور آپ کے افسر بننے کے خواب ہیں تو سال سوا سال کی چھٹی لیں‘ گھر والوں کی ذمہ داریاں بھی واجبی طور پر‘ روزانہ کم و بیش 12 گھنٹے قابل اور مایہ ناز انسٹرکٹر اور استاد کی زیرنگرانی تیاری کی صورت میں امتحان پاس ہونے کی امید ہو سکتی ہے۔ یہ بات اس تجربے پر اس سے کہی کہ ایک انکم ٹیکس افسر نے بتایا تھا کہ گریجویشن کے بعد ڈیڑھ سال تک ”وہ تھے اور کتابیں‘ رسائل۔“ کتابی کیڑوں کی مانند تیاری کی اور اسٹڈی کا یہ عالم تھا کہ شاہراہ فیصل پر ایک انسٹیٹیوٹ میں دیگر امیدوار تربیت اور اسٹڈی کےلئے آتے تھے اور ہم دن بھر پڑھنے کے بعد تفریح کےلئے آتے تھے۔

اگر سی ایس ایس امتحانات کا ماضی میں جائزہ لیا جائے تو آج سے چھ سات دہائی پیچھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سی ایس ایس اور اعلیٰ تعلیمی شعبے کا گراف کہیں بلند تھا ۔ پرانے وقتوں میں میرٹ کو ترجیح دی جاتی تھی جس کی بناءپر غریب اور متوسط طبقہ کے بچے اور لال پیلے و سرکاری اسکولوں کے پڑھے افسر بن جاتے تھے۔ آج کل صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اقرباءپروری اور سفارش کلچر و کرپش نے میرٹ اور معیار کو ہر سطح پر پامال کیا ہے جس کی بناءپر سی ایس ایس کا امتحانی نظام تیزی سے بدنظمی کا شکار ہو رہا ہے اور اپنی حقیقی ساکھ کھو چکا ہے۔ بلاشبہ قابل اور ذہین طلبہ و طالبات کا کسی نہ کسی طور استحصال کیا جاتاہے۔ گزشتہ ہفتے فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس 2016ءکے نتائج کا اعلان کیا جس میں 199 پوسٹوں کےلئے 202 امیدوار پاس ہوئے جس پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مقابلے کے امتحان میں مقابلہ نہ شد۔ جتنے پاس ہوئے ہیں انہیں یقینی طور پر افسری مل جائے گی۔ 9643 امیدوار تحریری ٹیسٹ میں پیش ہوئے جن میں سے 202 ہی پاس ہو سکے جو کہ تعلیمی صورتحال اور نظام تعلیم کی پسماندگی ظاہر کرتی ہے۔ بیوروکریسی میں سیاست کا عمل دخل‘ عہدے کی میعاد کا تحفظ نہ ہونا اور بااثر لوگوں کی خواہشات کے مطابق تبادلے و تقرریاں ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے سول سروسز کے وقار میں کمی اور اس کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں اس نے سی ایس ایس افسر بننے کے خواب اب چھوڑ دئیے ہیں اور وہ نوجوان اب اپنا کاروبار‘ بیرون ملک ملازمت یا بین الاقوامی کمپنیوں میں اپنی خدمات سرانجام دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

نہ صرف ایف پی ایس سی کا ادارہ زوال پذیر ہے بلکہ دیگر اداروں میں بھی اس اَمر کا بخوبی خیال رکھا جاتا ہے کہ افسر کی اولاد ہی افسر بننی چاہئے‘ جس کا باپ‘ بھائی یا چچا‘ ماموں افسر نہیں ہے اس کے افسر بننے کا کوئی جواز نہیں چاہے وہ کتنا ہی قابل اور ذہین کیوں نہ ہو۔ بلکہ ایسے ٹیلنٹ کو ’اوور کانفیڈنس‘ کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے جو کہ نہ صرف زیادتی ہے بلکہ میرٹ کا قتل اور سراسر معیار کا قتل ہے۔ سول سپریئر سروسز یعنی مقابلے کے امتحان کی اصل روح خداداد صلاحیتیں اور اعلیٰ تعلیمی شعبہ ہے لیکن ہمارے اس کے برعکس مقابلہ غریب‘ متوسط‘ بیوروکریسی اور اشرافیہ‘ وڈیروں‘ وزیروں کے مابین ہے جو کہ کسی صورت کامیابی ممکن نہیں۔ اگر یہی حال رہا تو مستقبل میں ملک کا انتظامی ڈھانچہ نہایت کمزور ہو کر رہ جائے گا۔

1990ءمیں ایف پی ایس سی کے تحت ہونے والے مقابلے کے امتحان میں 12 ہزار امیدوار شریک ہوئے اور ایک ہزار کے قریب امیدوار انٹرویو کا مرحلہ پاس کر پائے۔ ان ایک ہزار میں سے صرف 125 امیدوار ایسے تھے جو کہ 14 ڈی ایم جی گروپ میں تعینات ہو سکے۔ ان میں خاص بات یہ تھی کہ ان امیدواروں میں زیادہ تعداد ڈاکٹرز‘ انجینئرز اور پروفیسرز کی تھی جو کہ اپنی ڈگریوں کی بجائے سی ایس ایس افسر بننے کو فوقیت دے رہے تھے۔ لیکن آج یہ عالم ہے کہ صورتحال قبل ازیں بیان کی جا چکی ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment