شاہد آفریدی کس ٹیم کا حصہ بنیں گے؟

پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل ) کا چوتھا ایونٹ آئندہ سال 14 فروری سے شروع ہو گا اور اس ایونٹ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کی ڈرافٹنگ 20 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والی ہے۔شائقین کے نقطۂ نظر سے یہ سوال اس وقت زیادہ دلچسپی کا حامل بنا ہوا ہے کہ آل راؤنڈر شاہد آفریدی اس مرتبہ کس ٹیم کی طرف سے کھیلیں گے؟شاہد آفریدی اگرچہ بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں لیکن فرنچائز کرکٹ میں وہ اب بھی پہلے جیسی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔شاہد آفریدی پاکستان سپر لیگ کے پہلے دو ٹورنامنٹس میں پشاور زلمی کا حصہ تھے لیکن گذشتہ سال انہوں نے پشاور زلمی چھوڑ کر کراچی کنگز میں شمولیت اختیار کرلی تھیآانہوں نے ٹیم کی تبدیلی کی بظاہر وجہ یہ بتائی تھی کہ وہ اس شہر کی ٹیم کی طرف سے کھیلنا چاہتے ہیں جہاں انہوں نے اپنی تمام کرکٹ کھیلی ہے۔ شاہد آفریدی پی ایس ایل کے تیسرے ٹورنامنٹ میں نہ صرف کراچی کنگز کی ٹیم میں شامل تھے بلکہ وہ کراچی کنگز کے صدر بھی بنائے گئے تھے لیکن گذشتہ دنوں کراچی کنگز سے بھی ان کے راستے جدا ہو گئے ہیں۔ ہے
اس کی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ کراچی کنگز نہیں چاہتی تھی کہ وہ شارجہ میں ہونے والی ٹی ٹین لیگ کھیلیں لیکن ان کے ٹی ٹین کھیلنے کے نتیجے میں کراچی کنگز نے انہیں اپنی ٹیم میں برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ بیس نومبر کو ہونے والی ڈرافٹنگ میں کوئی بھی فرنچائز انہیں اپنی ٹیم میں شامل کرسکتی ہے۔ شاہد آفریدی پاکستان سپر لیگ میں پلاٹینم کیٹگری کے کرکٹر رہے ہیں۔ پی ایس ایل کے قواعد وضوابط کے مطابق ہر ٹیم کو پلاٹینم، ڈائمنڈ اور گولڈ کیٹگری میں تین تین کرکٹر رکھنے کی اجازت ہے۔اسلام آباد یونائٹڈ نے پلاٹینم کیٹگری میں تینوں کرکٹرز لیوک رانکی، شاداب خان اور فہیم اشرف کو برقرار رکھا ہے۔پشاور زلمی نے پلاٹینم کیٹگری میں دو کرکٹرز وہاب ریاض اور حسن علی کو برقرار رکھا ہے لیکن قواعد وضوابط کی رو سے چونکہ اس کیٹگری میں کم ازکم ایک غیر ملکی کرکٹر ہونا لازمی ہے لہٰذا پشاور زلمی کو ڈرافٹنگ میں ایک غیر ملکی کرکٹر لینا ہو گا۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پلاٹینم کیٹگری میں سرفراز احمد اور ویسٹ انڈین سنیل نارائن کو شامل کیا ہے اس طرح اس کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ ڈرافٹنگ میں اپنی باری میں شاہد آفریدی کو لے سکتی ہے۔لاہور قلندر اور پاکستان سپر لیگ کی چھٹی ٹیم کے پاس بھی یہ موقع ہے کہ اگروہ چاہے تو شاہد آفریدی کو لے سکتی ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ سال کی چھٹی ٹیم ملتان سلطانز کے مالکانہ حقوق ختم ہو چکے ہیں اور یہ حقوق پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس واپس جا چکے ہیں جس نے اس ٹیم میں فی الحال آٹھ کھلاڑیوں کو برقرار رکھا ہے جبکہ بقیہ آٹھ کھلاڑیوں کا انتخاب ڈرافٹنگ کے ذریعے ہو گا جبکہ یہ فرنچائز خریدنے والے نئے مالک کو اس ٹیم کا نیا نام رکھنے کا اختیار حاصل ہوگا
۔اس چھٹی ٹیم میں شعیب ملک کو پلاٹینم کیٹگری میں رکھا گیا ہے جبکہ لاہور قلندر نے بھی پلاٹینم کیٹگری میں ایک کرکٹر فخرزمان کو برقرار رکھا ہے۔شاہد آفریدی اگر ایک کیٹیگری نیچے ہونے پر راضی ہوتے ہیں ( جس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے) تو اس صورت میں چھ میں سے پانچ فرنچائز انہیں ڈائمنڈ کیٹیگری میں اپنی ٹیم میں شامل کر سکتی ہیں۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز ڈائمنڈ کیٹگری میں اپنے تینوں کرکٹرز کا انتخاب مکمل کر چکی ہے۔پاکستان سپر لیگ کی ڈرافٹنگ میں پہلا کھلاڑی منتخب کرنے کا اختیار آخری نمبر پر آنے والی ٹیم کو حاصل ہوتا ہے اور لاہور قلندر اس بار بھی اپنا یہ حق استعمال کرے گی۔ اس بار اس کا انتخاب جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز ہونگے۔اے بی ڈی ویلیئرز کے علاوہ ڈرافٹنگ میں شامل قابل ذکر کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کے سٹیو سمتھ، نیوزی لینڈ کے برینڈن مک کم، کورے اینڈرسن اور افغانستان کے راشد خان شامل ہیں۔سٹیو سمتھ پر بال ٹمپرنگ میں ملوث ہونے کی پاداش میں اس وقت ایک سال کی پابندی عائد ہے تاہم وہ آسٹریلیا سے باہر فرنچائز کرکٹ باقاعدگی سے کھیل رہے ہیں۔ مک کلم کو لاہور قلندر نے برقرار نہیں رکھا۔راشد خان کی شرکت افغانستان کرکٹ بورڈ کی اجازت سے مشروط دکھائی دیتی ہے۔ اسلام آباد یونائٹڈ کو دو بار چیمپئن بنوانے والے کپتان مصباح الحق اس بار پی ایس ایل میں کرکٹر کے روپ میں شامل نہیں ہوں گے۔ کیا وہ کسی نئی ذمہ داری کے ساتھ اسلام آباد یونائٹڈ کا حصہ بنیں گے؟ یونائٹڈ اور مصباح دونوں اس سلسلے میں کسی نتیجے پر پہنچنے میں مصروف ہیں۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے