پولیس افسر محمد طاہر داوڑ کون ہیں؟

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 20 دن قبل پر اسرار طورپر اغوا ہونے والے پشاور پولیس کے ایس پی محمد طاہر داوڑ کی افغانستان سے لاش کی برآمدگی بدستور ایک بڑا سوال بنا ہوا ہے۔محمد طاہر داوڑ کا تعلق قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے گاؤں خدی سے تھا۔ انھوں نے پرائمری سے لے کر ڈگری سطح تک کی تعلیم شمالی وزیرستان سے حاصل کی۔ تاہم بی اے کرنے کے بعد وہ کچھ عرصے تک ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال، شمالی وزیرستان میں کمپاؤنڈر کے طور پر ملازمت کرتے رہے۔ وہ ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے‘مقتول کے بھائی سے ملنے والی معلومات کے مطابق محمد طاہر داوڑ نے نوے کے عشرے میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے محکمۂ پولیس میں بطور اے ایس آئی اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ طاہر داوڑ نے تقریباً 23 سال تک محکمۂ پولیس میں ملازمت کی اور اس دوران وہ اے ایس آئی سے ترقی کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) کے عہدے تک جا پہنچے۔ طاہر داوڑ نے بیشتر ملازمت شمالی وزیرستان سے متصل ضلع بنوں میں کی جہاں وہ بطور ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔انھوں نے پشاور میں بھی کچھ عرصہ بحثیت پولیس افسر کام کیا۔ اغوا ہونے سے دو ماہ قبل وہ ڈی ایس پی کے عہدے سے ترقی پا کر ایس پی رورل کے عہدے پر فائز کیے گئے تھے۔ وہ تین سال تک پشاور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے میں بحثیت اسسٹنٹ ڈائریکٹر تعینات رہے۔ اطلاعات کے مطابق طاہر داوڑ نے دوران ملازمت کئی مرتبہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیا جس پر انہیں وقتاً فوقتاً دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا بھی رہا۔ وہ وزیرستان کے طالبان کی ہِٹ لسٹ پر بھی رہے جس کی وجہ سے وہ کئی سال تک اپنے گاؤں بھی نہیں جا سکے۔ وہ دو مرتبہ شدت پسندوں کے حملوں میں زخمی بھی ہوئے۔ ایک مرتبہ بنوں میں ان کے گھر پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں ان کے ایک محافظ ہلاک جبکہ وہ خود محفوظ رہے تھے۔ دوسری مرتبہ ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں ان کے ہاتھ اور پاؤں پر گولیاں لگی تھیں۔ مقتول کے قریبی حلقے کا کہنا ہے کہ طاہر داوڑ ایک مرتبہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی طرف سے ‘فرینڈلی فائر’ کا نشانہ بھی بنے جس سے ان کے ایک ہاتھ میں زخم آئے تھے۔محمد طاہر داوڑ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ایک نڈر اور فرض شناس افسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر انہیں محکمہ پولیس کے سب سے بڑے اعزاز قائد اعظم پولیس میڈل سے بھی نوازا گیا تھا۔ مقتول طاہر دواڑ ایک پیشہ ور سپاہی ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی اور سماجی حلقوں میں بھی کافی مقبول سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے پشتو زبان میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی اور وہ اکثر اوقات پشتو زبان میں شوقیہ شعر و شاعری بھی کیا کرتے تھے۔ انھوں نے پشتو زبان میں کئی غزلیں اور نظمیں لکھیں جنہیں مقامی فنکاروں نے میوزک کے ساتھ گایا بھی ہے۔ان کے موت کی تصدیق کے بعد ان کی لکھی ہوئی ایک نظم گذشتہ دو دنوں سے مختلف واٹس ایپ گروپس میں آڈیو کی شکل میں گردش کرتی رہی۔ انھوں نے اس نظم میں پشتون علاقوں بالخصوص قبائلی علاقوں میں ہونے والی جنگ کا نقشہ کھینچا ہے اور عوام پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا ہے۔ پشتو زبان میں لکھی گئی اس نظم کے کچھ اشعار کا مفہوم کچھ اس طرح ہے۔ ‘میں برباد ہوا، جہان تباہ ہوا،گھر اور لشکر سب کچھ اجڑ گیا، صبح کی بلبل نے رنگین نغمہ گانا چھوڑ دیا ہے۔ ہر طرف آنسو، آہ اور فریاد ہے، مگر میں طاہر داوڑ اس ناکردہ جرم سے لاعلم ہوں کہ یہ میرے ساتھ کیوں ہو رہا ہے، میرا جرم ہے کیا۔ لیکن ظالم کو اس کے اس ظلم کا مزہ اس وقت معلوم ہو گا جب اس کا اپنا بیٹا کسی ظالم کے ہاتھ لگے گا’۔ محمد طاہر داوڑ وزیرستان کے ایک ادبی ٹولے ‘رنڑا’ (روشنی) کے رکن بھی رہے ہیں جہاں وہ باقاعدگی سے ادبی تقریبات میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ وہ ادبی تقریبات کے ساتھ ساتھ سماجی پروگرامات میں بھی حصہ لیتے تھے۔طاہر داوڑ کے ایک قریبی ساتھی اور داوڑ قومی جرگے کے چئیرمین سمیع اللہ دواڑ کا کہنا ہے کہ اغوا ہونے سے چار دن قبل انہوں نے داوڑ جرگہ فورم کے ایک اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں ان کی طرف سے کچھ تجاویز بھی دی گئی تھیں۔انھوں نے کہا کہ اجلاس میں وزیرستان کے مسائل گورنر خیبر پختونخوا کے ساتھ ملاقات میں اٹھانے پر اتفاق کیا گیا اور طاہر دواڑ کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ وزیرستان کے مسائل اس وقت حل ہوں گے جب وہاں کے تمام اختیارات مقامی انتظامیہ کے حوالے کیے جائیں گے۔ مقتول نے اپنے پیچھے بیوہ، تین بیٹیوں اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے