نیب زیرحراست ملزمان پر تشدد کرتا ہے، مجاہد کامران کا دعویٰ

نیب زیرحراست ملزمان پر تشدد کرتا ہے، مجاہد کامران کا دعویٰ

پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو زیر حراست ملزمان پر تشدد کرتا ہے۔
مجاہد کامران کا کہنا تھا کہ نیب حوالات میں بند ایک شخص جس کا نام حاجی ندیم تھا اس کے جسم پر انہوں نے تشدد کے نشانات دیکھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ندیم نے انہیں بتایا کہ انہیں لٹکا کر ڈنڈوں سے مارا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ساتھ برا سلوک کیا گیا اور پہلی بار نیب دفاعی پوزیشن پر ہے۔
مجاہد کامران کہتے ہیں کہ نیب حکام سعد رفیق کیخلاف ثبوت چاہتے ہیں، جبکہ مرکزی رہنماء پاکستان مسلم لیگ ن شہباز شریف کو 13 نمبر سیل میں اکیلے رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فواد حسن فواد سے وعدہ معاف گواہ بننے کا پوچھا گیا، فواد نے بتایا تھا کہ ”اگر گواہ بن جاتا تو آج جیل میں نہ ہوتا”۔

پنجاب یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر کہتے ہیں نندی پور پاور پلانٹ کا ڈرائیور بھی زیر حراست ہے، ڈرائیور نے فرنس آئل چوری کرنے والے کی تصویربنائی، اسکے باس نے رشوت دیکر گرفتار کروادیا۔
نومبر 10 کو مجاہد کامران سمیت دیگر اساتذہ کو لاہور کیمپ جیل سے رہا کیا گیا تھا ۔
رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ نیب خدا کا خوف کرے اور وزیر اعظم سے درخواست ہے کہ نیب قوانین میں ترمیم کی جائے۔
پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کو ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہونے پر ایک ماہ بعد رہا کیا گیا۔
نیب نے غیر قانونی بھرتیوں کے الزام میں مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو حراست میں لیا تھا، جس کے بعد انہیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔
 

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے