صرف جیو اور جنگ ہی کیوں لوگوں کو جھوٹی خبریں دے رہے ہیں اور پھر سینئراینکر اس پر پروگرام کرنے بیٹھ جاتے ہیں چیف جسٹس چیف جسٹس ثاقب نثار نے اور کیا کہا؟ اہم فیصلہ

چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود منسوب جھوٹی خبر لگانے پر جنگ اور جیو کے عہدیدارحنیف خالد کی کلاس لیتے ہوئے کہا کہ کیوں صرف جنگ اور جیو ہی غلط خبر چلاتے ہیں اور پھر اس پر شاہزیب خانزادہ پروگرام کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق 2 روز قبل سپریم کورٹ میں بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سی ڈی اے کی جانب سے رپورٹ پیش کی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ 1961 کے نقشے کے مطابق زون 4 میں سڑکیں ہیں۔1992 اور 2010 میں ترمیم کی گئی۔زون 4 کے کچھ علاقے میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو بھی اجازت دی گئی۔ابھی کافی سارا سرسبز علاقہ موجود ہے جس کو بچایا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ نے اس علاقے میں سڑکیں اور سیوریج بنانی ہیں؟. بنی گالہ میں سہولیات کے لئے زمین چاہئے۔

ممکن ہے آپ زمین پر ٹرین بھی چلانا چاہیں۔اس کے لیے بھی آپ کو زمین چاہیے کیونکہ بہت ہی نیا پاکستان بن رہا ہے۔ممکن ہے کہ آپ زیر زمین بجلی کی لائنیں بچھائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سی ڈی اے نے کوئی پلان نہیں دیا تو جرمانہ لے کر تعمیرات کو ریگولائز کردیں۔اس حوالے سے جنگ گروپ نے غلط خبر شائع کرتے ہوئے چیف جسٹس کا سی ڈی سے متعلق دیا گیا بیان حکومت سے منسوب کر دیا اور اسکی شہہ سرخی بنا کر جنگ اور دی نیوز کی زینت بنا ڈالی جب کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کا یہ بیان حکومت کی بجائے سی ڈی اے کے لیے تھا۔
اس پر گزشتہ روزچیف جسٹس نے نوٹس لیتے ہوئے غلط خبر چھاپنے پر جنگ اور دی نیوز کے سینئیر رپورٹر کو عدالت میں طلب کر لیا۔جنگ گروپ کے رپورٹر کو چیف جسٹس کی جانب سے حکم دیا گیا کہ وہ وقفے کے بعد کسی سینئیر کو عدالت بھیجیں تاہم اس پر بھی کوئی سینئیر رپورٹر عدالت نہ پہنچا۔تاہم آج جیو کی جانب سے حنیف خالد عدالت میں پیش ہوئے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا یہ ہیں صحافتی اخلاقیات ،کیا آپ لوگ اداروں میں لڑائی کروانا چاہتے ہیں ۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کے رپورٹر عدالت میں آتے نہیں اور انکو اگر مذاق میں بھی بتا دیا جائے کہ آج عدالت میں یہ بات ہوئی ہے تو وہ اس کو بغیر تصدیق کئیے چھاپ دیتے ہیں اور پھر آپ کو اینکر شاہزیب خانزادہ اس پر پروگرام کر ڈالتے ہیں۔اس پر حنیف خالد نے معافی مانگی تو عدالت نے کہا کہ ہم کب تک آپکا یہ رویہ برداشت کریں گے ۔آپ لوگ پہلے معافی مانگتے ہیں اور بعد میں پھر وہی کام کرنے لگ جاتے ہیں۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment