تحمل وبرداشت کا عالمی دن

سال میں ایک دن نہیں پورے تین سو پینسٹھ دن اختلاف رائے پر چیخ و پکار عروج پر رہتا ہے، مار پیٹ اور توڑ پھوڑ سے ہمیں گریز کرنا چاہیے۔ کیونکہ عدم برداشت معاشرے میں منفی رویے کو جنم دیتی ہے ۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج برداشت کا دن منایا جارہا ہے۔
اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں برداشت اور تحمل کو فروغ دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق عدم برداشت قومی رویے کا عکاس ہے، تعلیم یافتہ اور مہذب اقوام بات کرنے اور دوسروں کا نقطہ نظر سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ عدم برداشت معاشرے میں منفی رویے کو جنم دیتی ہے۔

بڑھتے ہوئے مسائل نے برداشت اور رواداری کا مادہ ختم کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر لوگ آپس میں لڑنے جھگڑنے لگتے ہیں۔ ٹریفک سگنلز پر تو تو میں میں ، بینکوں یا عوامی مقامات پر قطار لگانے سے گھبراہٹ ، سیاسی اور مذہبی نظریات میں اختلافات پر قتل کردینا، یہ سب عدم برداشت کا رویہ ظاہر کرتا ہے۔
ابتدائی عمر میں گھر کا ماحول اور اسکول میں تربیت انسان میں برداشت کا رویہ پروان چڑھانے میں مدد گارثابت ہوتی ہے۔
تحمل اور برداشت اپنائیے اور ایک دوسرے کو اطمینان سے جینے کا حق دیجیے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے