افغان احکام کا رویہ نامناسب تھا، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ ‘ پاکستان نے 80 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو جگہ دی لیکن اس کے باوجود طاہر خان داوڑ کی میت کی حوالگی سے متعلق افغان حکام کا رویہ غیر مناسب تھا اور جو رویہ طورخم پر دیکھنے کو ملا وہ اذیت ناک تھا۔

انہوں نے کہا کہ ‘افغان حکام نے طاہر داوڑ کی میت پاکستانی قونصل خانے کو دینے سے انکار کیا اور افغان حکام نے میت حوالگی کے بدلے کچھ مطالبات رکھنے کی کوشش کی، جبکہ ڈھائی گھنٹے انتظار کے بعد میت حوالے کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ریاست پاکستان، افغان حکومت سے اس رویے سے متعلق بات کرے گی۔

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ‘خیبر پختونخوا حکومت سے طاہر داوڑ سے متعلق رپورٹ طلب کرلی گئی ہے، ریاست پاکستان اپنے ایک ایک سپاہی اور شہری کی ذمہ دار ہے اور ہم ایس پی داوڑ کے قتل کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طاہر خان داوڑ کو رواں برس کے آغاز میں دیہی علاقوں کا ایس پی بنایا گیا تھا اس سے قبل وہ یونیورسٹی ٹاؤن اور فقیر آباد میں بحیثیت ڈی ایس پی اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment