نون لیگ کی بڑے ہلکے سے بڑی سیٹ خطرے میں دھاندلی پکڑی گئی۔ دھاندلی کیسے ہوئی؟ بڑی خبر

ن لیگ کی جیتی ہوئی نشست پر دھاندلی پکڑی گئی، نشست چھیننے کا امکان، سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب کے حلقہ پی پی 123 کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے دوران 243 ووٹ سرے سے ہی موجود نہ تھے، گنتی کا عمل دوبارہ روک دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 123 پر ہونے والے الیکشن کے دوران پڑنے والے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
پی پی 123 پر ہونے والے الیکشن میں ن لیگ کے امیدوار سید قطب علی شاہ تحریک انصاف کی سونیا بی بی کو محض 17 ووٹوں سے شکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے۔ پی پی 123 کے انتخابی نتیجے کے اعلان کے بعد سونیا بی بی کی جانب سے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروانے کی درخواست کی گئی تھی۔

سونیا بی بی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔

اب ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل شروع ہوئے دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب صرف 17 ووٹوں سے کامیاب ٹھہرنے والے ن لیگ کے امیدوار کے 243 ووٹ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ پی پی 123 کے پولنگ سٹیشن نمبر54 کے ووٹوں کی گنتی کے دوران جب تھیلا کھولا گیا تو شیر کے ووٹ ہی موجود نہ تھے۔ پولنگ اسٹیشن کے ووٹوں کے تھیلے سے سید قطب علی شاہ کے 243 ووٹ غائب تھے۔
جبکہ اسی پولنگ اسٹیشن کے تھیلے میں سونیا بی بی کے 182 ووٹ موجود تھے۔ صورتحال کا علم ہونے پر آر او کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل فوری روک دیا گیا۔ اس تمام صورتحال کے بعد یہ نشست ن لیگ کے ہاتھ سے جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ واضح رہے کہ ن لیگی رہنما پیر قطب علی بابا نے 53122 ووٹ لے کر تحریک انصاف کی امیدوار کو شکست دی تھی۔ تحریک انصاف کی امیدوار سونیا علی رضا نے 53105 ووٹ حاصل کیے تھے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment