لاہور میں احتجاج کے لیے مین ہائیڈ پارک کی طرز پر اسپیکر کارنر بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا

اسپیکرکارنرمیں سرکاری اہلکارموجودہونگےجو شکایات متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے۔تفصیلات کے مطابق 31اکتوبر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے آسیہ بی بی کیس فیصلہ سنایا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان بھی بنچ کا حصہ تھے۔
سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ بی بی کو الزامات سے بری کیا اور رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔جس کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے شروع کئیے گئے۔تاہم 3 روز بعد حکومت اور مظاہرین میں معاہدہ طے پا گیا۔اس مظاہرے کے دوران جہاں نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچا وہیں دھرنے کی قیادت نے پاکستان کی اعلیٰ شخصیات کے خلاف فتاویٰ جاری کیے۔

اس دوران جگہ جگہ سڑکیں روک کر نجی و قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیا جس کے بعد پنجاب حکومت نے احتجاج کے لے جگہ مختص کر دینے کے لیے سوچ بچار شروع کر دی۔تاہم تازہ ترین خبر کے مطابق احتجاج کے لیے مختص جگہ کو اسپیکر کارنر کا نام دیا گیا ہے اور اس اسپیکر کارنر کو ہین ہائیڈ اپارک کی طرز پر بنایا جائے گا۔مزید یہ کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدارنےاسپیکرکارنربنانے کی تجویزکی منظوری دیدی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اب تک نیب سے بالکل تعاون کیا ہے لیکن نیب میرے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کر سکا۔یاد رہے کہ ڈی جی نیب لاہور نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ سعد رفیق کی انکوائری مکمل ہو گئی ہے اور جلد ہی انکی گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment