پانامہ جے آئی ٹی کی کارروائی کے دوران حسین نواز کی تصویر کس نے لیک کی، کیا یہ کام خود واجد ضیاء نے کیا؟ احتساب عدالت سے خبر آ گئی

پانامہ کیس میں بننے والی جے آئی ٹی کی کارروائی کے دوران حسین نواز کی تصویر لیک ہوئی جس نے پورے ملک میں کھلبلی مچا دی اور ہر کوئی یہ سوال پوچھتا پایا گیا کہ یہ تصویر آخر کس نے لیک کی؟ اب احتساب عدالت میں ہونے والی فلیگ شپ ریفرنس کیس کی سماعت کے دوران یہ عقدہ بھی وا ہو گیا ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء پر جرح کرتے ہوئے ان سے سوال پوچھ لیا کہ ’’حسین نواز کی تصویر کیسے لیک ہوئی تھی اور تصویر لیک کرنے والے کا نام عدالت کو کیوں نہیں بتایا گیا؟‘‘

سوال کا جواب دیتے ہوئے واجد ضیاء نے کہا کہ ’’ایک رضاکار نے حسین نواز کی تصویر لیک کی تھی، جو اس وقت جے آئی ٹی کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ اس کا نام سکیورٹی خدشات کی بناء پر منظرعام پر نہیں لایا گیا۔‘‘ اس پر خواجہ حارث نے ہلکے پھلکے انداز میں اگلا سوال داغا کہ ’’کہیں وہ رضا کار آپ ہی تو نہیں تھے؟‘‘ اس کے جواب میں واجد ضیاء نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’نہیں، وہ میں نہیں تھا۔‘‘رپورٹ کے مطابق فلیگ شپ ریفرنس کی آئندہ سماعت بدھ کے روز ہو گی۔

 

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment