” وہ سامنے یونان ہے، کشتی میں جائیں گے لیکن تھوڑی دیر رکیں

سمگلر انہیں وہاں اتار کر انہیں اشار ے سے بتایا کہ سامنے یونان ہے ، کشتی کے ذریعے ہمیں وہاں پہنچایا جائےگا، آپ تھوڑی دیر رکیں میں کھانا  لیکر آتا ہوں اور انہیں وہاں بیٹھا کر خود فرار ہوگیا ، جبکہ وہ 13افراد تمام رات دریائے چناب کے کنارے پڑے رہے۔

علی الصبح ایک ٹریکٹر ٹرالی والا دریا سے ریت بھرنے آیا تو انہیں افراد نے اس سے کہا ہم پاکستانی ہیں اوربارڈر کراس کرکے یونان میں داخل ہونا چاہتے ہیں اس نے بتایا کہ میں بھی پاکستانی ہوں اوریہ کوئی بارڈر نہیں دریائے چناب ہے اوردوسری طرف سیالکوٹ ہے

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment