آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 9

adamkhore all ep 1to 70 in urdu

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان …قسط نمبر 9

’یہ دیکھئے سرکار، یہ رہے اس کے پنجوں کے نشان اور یہ رہے خون کے ہلکے ہلکے دھبے۔۔۔ریچھ سخت زخمی تھا اور میرا خیال ہے وہ زیادہ دور نہیں جا سکا ہو گا۔‘‘

ہم ان نشانات کا تعاقب کرتے ہوئے جنگل کے ایسے حصے میں نکل آئے جہاں پہاڑی ٹیلے اور کئی کئی من وزنی پتھر کثرت سے پھیلے ہوئے تھے۔میں پورے کپڑے پہننے کے باوجود ٹھنڈ محسوس کررہا تھا لیکن بیرا کے جسم پر لنگوٹی کے سوا کوئی کپڑا نہ تھا۔میں حیران تھا کہ اس شخص کو سردی لگتی ہے نہ گرمی اور تھکنے کا تو نام ہی نہیں لیتا۔

’’بیرا تمہیں سردی نہیں لگتی؟‘‘ میں نے پوچھ ہی لیا۔وہ ہنس کر پڑا، پھر بولا’’سرکار،ہم غریبوں کو سردی، گرمی سے کیا واسطہ، ہماری زندگی تو ایک کپڑے میں گزر جاتی ہے جناب،پیدا ہونے سے مرنے تک ہم اسی طرح رہتے ہیں اور ہمارے بعد ہمارے بال بچے بھی اسی طرح اپنی زندگی گزاریں گے۔‘‘

’’تم آدمی تو اچھے ہو بیرا،اگر اپنی ذلیل حرکتیں چھوڑ دو تو میں تمہیں اپنے پاس ملازم رکھ لوں گا۔‘‘میں نے کہا۔دفعتاً ریچھ کے غرانے کی آواز سن کر بیرا الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور پناہ لینے کے لیے ایک درخت کی طرف دوڑا۔

’’سرکار،ریچھ آگیا،گولی چلائیے۔‘‘وہ بندر کی طرح درخت پر پھرتی سے چھڑہتے ہوئے چلایا۔

اگرچہ میں نے ریچھ کی آواز سن لی تی، تاہم وہ مجھے دکھائی نہ دیا۔ چند لمحوں کے لیے میں بھی بدحواس ہو گیا۔ ٹارچ روشن کرکے میں نے چاروں طرف دیکھا، ریچھ اب بھی نظر نہ آیا، البتہ اس کے غرانے کی آواز مسلسل سنائی دے رہی تھی۔ ادھر بیرا گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخ کر رہا تھا۔

’’وہ رہا۔۔۔آپ کے دائیں جانب۔۔۔جھاڑیوں میں دیکھیے جناب۔۔۔گولی چلائیے ،وہ بھاگا۔۔۔‘‘

میں نے اندھا دھنددائیں طرف کی جھاڑیوں میں کئی فائر جھونک دیئے۔فائروں کی آواز سے جنگل کی سوئی ہوئی زندگی جاگ اٹھی۔ دور کہیں بندر چیخنے لگے اور درختوں پر بسیرا کرنے والے پرندے اور ہزارہا چمگادڑیں پھڑ پھڑاتی ہوئی آسمان کی تاریک فضا میں اڑنے لگیں۔میں نے کچھ دیر بعد جھاڑیوں کا معائنہ کیا تو کہیں کہیں خون کے دھبے اور سیاہ بالوں کے گچھے پڑے دکھائی دیئے لیکن ریچھ کا پتا نہ تھا۔میں نے بیرا کو نیچے اترنے کا حکم دیا۔

’’سرکار،آپ نے دیر کر دی ورنہ ریچھ بچ کر نہ جا سکتا تھا۔‘‘ اس نے کہا۔

’’بچ کر جائے گا کہاں؟‘‘ میں نے جھینپ مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’اب گاؤں چلتے ہیں،صبح منہ اندھیرے آن کر اسے تلاش کریں گے۔‘‘

واپسی پر بیرا نے مجھے نوجوان انگریز شکاری کے مرنے کا قصہ سنایا اور بتایا اس کا نام ہیری سن تھا اور اسے منداچی پالم کے آدم خور نے ہڑپ کیا تھا۔ منداچی پالم کا علاقہ تلوادی کے مغرب میں تقریباً بارہ مربع میل تک پھیلا ہوا ہے۔کسی زمانے میں آدم خوروں نے یہاں بڑا اودھم مچایا تھا اور ان گنت افراد ہلاک کر ڈالے تھے۔آخر گورنمنٹ نے آدم خوروں کو ہلاک کرنے کے لیے بڑے بڑے انعام مقرر کیے۔ بہت سے شکاری قسمت آزمانے آئے۔ان میں میرا دوست اور دنیا کا نامور شکاری آنجہانی جم کاربٹ بھی شامل تھا۔ جم کاربٹ نے ایک سال لگاتار کوشش کے بعد تین آدم خور مارے۔ ان میں دو شیر تھے، ایک شیرنی۔جم کاربٹ سے پیشتر دو شکاری آدم خوروں کا لقمہ بن گئے۔کئی شدید زخمی ہونے کے بعد جنگل سے بھاگ نکلے اور انہوں نے دوبارہ ادھر کا رخ نہ کیا۔ جم کاربٹ نے جب جنگل کا چارج لیا اور تین آدم خوروں کو ٹھکانے لگا دیا تو علاقے میں امن و امان قائم ہوا۔ اس کے بعد کسی آدم خور کی ہلاکت خیز سرگرمیوں کی خبر نہ آئی اور اب بیرا مجھے بتا رہا تھا کہ منداچی پالم میں کم از کم ایک اور آدم خور موجود ہے جو شکاری ہیری سن کی موت کا باعث بنا تھا۔

مجھے پنگرام کے پوسٹ ماسٹر کا بھیجا ہوا خط یاد آیال جس میں اس نے ایک زبردست چیتے کے بارے میں لکھاتھا کہ یہ مویشیوں کو اٹھا کر لے جارہا ہے۔اور جلد ہی انسانوں کی باری آنے والی ہے۔گویا ہمارا مقابلہ بیک وقت ایک آدم خور شیر(اگر واقعی وجود ہے)ایک خونخوار چیتے اور ایک قوی ہیکل ریچھ سے تھا۔ میں نے سب سے پہلے ریچھ سے دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اگلے روز منہ اندھیرے آنکھ کھلی تو بستر چھوڑنے کو جی نہ چاہا۔ طبیعت سخت کسل مند تھی اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہلکا ہلکا بخار ہے۔غالباً یہ گزشتہ روز کی تھکن کا اثر تھا۔تھوڑی دیر بعد بیرا اندر آیا اور مجھے جاگتا پا کر بولا’’چلیے صاحب، میں بالکل تیار ہوں۔‘‘

میں نے طبعیت کی ناسازی کا عذر کرتے ہوئے اس سے کہا کہ وہ گاؤں کے چند آدمیوں کو ساتھ لے کر جنگل میں جائے اور ریچھ کا کھوج لگانے کی کوشش کرے۔اگر دوپہر تک میں ٹھیک ٹھاک ہو گیا تو اگلا پروگرام طے ہو گا۔ بیرا چند لمحے سوچتا رہا ۔اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور خوف کے آثار نمودار ہوئے لیکن اس نے کچھ نہ کہا اور باہر چلا گیا۔

میں پھر کمبل سے منہ ڈھانپ کر سو گیا۔ دن چڑھے آنکھ کھلی تو سر میں شدید درد تھا اور بخار پہلے سے بھی تیز۔اردلی کو ایک روز پہلے پنگرام کے پوسٹ ماسٹر صاحب کے پاس تازہ خبر لانے کے لیے بھیج چکا تھا۔ دیر تک پڑا ہائے ہائے کرتا رہا، کوئی پانی پلانے والا بھی نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد شور کی سی آواز میرے کانوں میں آئی، جیسے کچھ لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں۔آہستہ آہستہ یہ شور نزدیک آتا گیا اور پھر ایک دم دس پندرہ آدمی میرے مکان میں گھس آئے۔انہوں نے بیرا پجاری کو ہاتھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ بیرا سخت زخمی ہے۔اس کی پیٹھ ،سینے اور کندھوں پر گہرے زخم ہیں اور سارا جسم خون میں لت پت ہے۔اس کا چہرہ ہلدی کی مانند زرد تھا۔

آنے والوں نے اسے فرش پر ڈال دیا اور کچھ لوگ گاؤں کے بڈھے وید کو بلانے دوڑے، میں نے دیکھا کہ ایک طرف مکھیا بھی کھڑا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی ہے۔بیرا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو چکا تھا اور اس کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے۔میں نے اپنا سوٹ کیس کھول کر فرسٹ ایڈ کا سامان نکالا۔ گرم پانی سے بیرا کے زخم دھوئے اور پٹیاں باندھ دیں۔اتنے میں وید جی آگئے۔ انہوں نے بیرا کی طرف تشویشناک نظروں سے دیکھا، مایوس ہو کر گردن ہلائی، پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولے:

’’یہ کس طرح زخمی ہوا؟‘‘

میرے کچھ کہنے سے پہلے گاؤں کا ایک آدمی بول پڑا ’’ہم اس کے ساتھ جنگل میں گئے تھے اس نے ہمیں بتایا کہ ایک جگہ شہد کی مکھیوں کا چھتا لگا ہوا ہے چلو اسے اتاریں۔یہ دیر تک چھتا تلاش کرتا رہا،پھر کہنے لگا شاید وہ کسی اور طرف ہے۔ہم یوں پھرتے پھرتے ندی کی طرف جا نکلے۔ وہاں اچانک ایک بڑے ریچھ نے جو جھاڑیوں میں دبکا بیٹھا تھا، بیرا پر حملہ کر دیا۔ بیرا نے جان بچانے کی بڑی کوشش کی مگر بھاگتے ہوئے ٹھوکر کھا کرگر پڑا اور ریچھ نے اسے پکڑ لیا،اگر ہم سب شور مچاتے ہوئے ریچھ کی طرف نہ جاتے تو وہ بیرا کو مار ہی ڈالتا۔اب بھی اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔بیرا کے جسم سے لہو بہت نکل گیا ہے۔‘‘

وید جی نے اپنی پوٹلی کھولی۔چند بڑی بوٹیاں نکال کر ایک پتھرپر گھسیں اور اس سفوف کو پانی میں حل کر کے بیرا کے حلق میں ٹپکانے کی کوشش کرنے لگے۔میں نے سمجھا تھا کہ اس شخص کا انجام ایک نہ ایک دن یہی ہونا چاہیے تھا۔اب اس کا بچنا محال ہے۔وید جی کی کوششیں بے کار ہیں۔بیرا جیسے کمزور آدمی کے جسم سے خون کی اتنی مقدار کا نکل جانا اور پھر اس کا زندہ رہنا کرشمہ ہی ہو گا۔(جاری ہے )

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment