سمیسٹرسمیسٹر کرتے ایک اور طالبہ جان سے گئی ۔ سمیسٹرسسٹم تعلیم سے متاثر طلباء اپنی جان کی بازی ہار گئی یونیورسٹی آف لاہور گجرات کیمپس

استاد کو بااختیار بنانے والے سمیسٹر سسٹم نامی تعلیمی نظام ایک اور ہونہار طلبہ کی جان لے گیا ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ کی جانب سے مسلسل فیل کر دینے کی دھمکی طالبہ کو ذہنی اذیت کا شکار کردیا جو برین ہیمرج کی صورت میں سامنے آیا آکر اپنی بیماری سے شکست کھاکر دو روز قبل وفات پا گئیں سمیسٹر سسٹم نامی تعلیمی نظام ایک خوبصورت تصور تھا جس کا مقصد تعلیم کے ساتھ ساتھ تحقیقات کو فروغ دینا تھا اس نظام کا مقصد طلباء کی تخلیقی صلاحتیوں کو اجاگر کرکے ان کے مثبت اور تخلیقی کاموں کو سامنے لانا تھا تاہم ہمارے ہاں اس نظام کو طلبہ و طالبات کی ہنر کو سامنے لانے کے لیے استعمال نہیں کیا جارہا بلکہ اسکو طلباوطالبات کا استحال کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے گویا ایسے استاد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے مگر آج بھی ہمارے تعلیمی اداروں میں ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں ان میں سے ایک ایسا ہی شخص یونیورسٹی آف لاہور کے گجرات کیمپس میں موجود ہے جس نے اپنی بلاوجہ دھونسی سے ایک طالبہ کی جان لے لی ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ طلبا ذہین کافی متحرک تھی اور اپنے کیمپس میں موجود سروینگ یومین یومین سوسائٹی کی عہدیدار تھی اس کے صدر شعبہ کی جانب سے اسے مجبور کیا جارہا تھا کہ وہ فلاحی کاموں کو چھوڑ دے تاہم اقرا ایسا کرنے پر راضی نہ تھی 3.7 پی اے کی حامل طلباء اپنے صدر شعبہ کی جانب سے دی گئی ذہنی اذیت سے باہر نہ نکل سکی اور کچھ روز پہلے برین ہیمرج کا شکار ہو کر دنیا سے چل بسی

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment