گھوڑے انسانی جذبات کو سمجھ سکتے ہیں

ایک تحقیق کے مطابق گھوڑوں میں صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ انسان کے خوشی اور غم کے تاثرات کے درمیان امتیاز کرسکیں۔برطانیہ کی سسیکس یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی جانب سے ایک تجربہ کیا گیا جس میں انسانی چہروں کی تصاویر کا استعمال کیا گیا اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ پالتوگھوڑوں نے غصے والے تاثرات کو دیکھ کر ’ناراضگی کا اظہار کیا۔‘سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان گھوڑوں کو پالنے کی وجہ سے شاید اْن کا انسانی رویوں کو اپنانے اور سمجھنے کا عمل فعال ہو سکتا ہے۔یہ تحقیق ایک سائنسی جرنل بائیولوجی لیٹرز میں شایع ہوئی ہے۔تحقیقی ٹیم اپنے ٹیسٹ کے نمونے اصطبل میں لے کر گئی اور کْل 28 گھوڑوں کو یہ بڑی تصاویر دکھائیں۔ ایک تحقیق کار ایمی سمتھ نے بتایا کہ ’ایک شخص نے گھوڑوں کو تصاویر دکھائیں جبکہ دیگر نے گھوڑوں کو تھاما۔‘ان کے مطابق ’اس کا اہم نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے اْن تصاویر کو اپنی بائیں آنکھ (غصے والے تاثرات) سے دیکھا۔ممالیہ (دودھ پلانے والے جانور) کے دماغ کے تار یہ معلومات ذخیرہ کرتے ہیں۔ دماغ کی دائیں جانب سے یہ معلومات لے کر بائیں آنکھ اْس پر عمل کرتی ہے۔سمتھ نے بتایا کہ ’دماغ کی دائیں جانب کا نصف حصہ منفی محرکات پیدا کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ یہ صرف توانائی کی تقسیم کے متعلق ہے اس میں پورا دماغ استعمال نہیں ہوتا ہے۔‘ محققین نے گھوڑوں کو دل کی شرح ناپنے والے مانیٹرز سے بھی منسلک کیا۔ جس سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ غصے والے چہروں کی وجہ سے گھوڑوں کے دل کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا۔پالتو کتوں پر کی گئی تحقیق کے بھی ایسے ہی نتائج دیکھنے میں آئے۔ جس سے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ انسانوں کے ساتھ زندگی گزارنا جانوروں کی صلاحیتوں پر کس قدر اثر انداز ہوتا ہے۔تاہم گھوڑوں میں ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کی ایک فطری صلاحیت ہوتی ہے۔انسانوں کی جانب سے اْن کی دیکھ بھال کی وجہ سے شاید اْن میں انسانی صلاحیتیں اپنانے کی صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے۔اسمتھ کہتی ہیں ’اس عمل سے گھوڑوں کی اس اضافی صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے۔ (اس سے ظاہر ہوتا ہے) اْن کے اردگرد ہمارے رویے ان پر اثر ڈالتے ہیں

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment