پیسے پرتماشہ: بھارتی کرکٹرزبھی شامل،سب بچ جائیں گے

پیسہ پھینک تماشہ دیکھ ۔۔۔ یہ محاورہ سبھی نے سن رکھا ہوگا لیکن اس کا ”عملی نمونہ” آپ کو ’’کرکٹ‘‘ میں بآسانی مل جائے گا جہاں ہر آنے والا دن ”پیسے پر تماشہ” کرنے والوں کے چہرے بے نقاب کررہا ہے۔ حال ہی میں ایک اور چہرہ بے نقاب ہوا جس نے خود ”تماشے” کا نقاب اتارا۔ بالکل! آپ صحیح سوچ رہے ہیں، میں بات کررہا ہوں پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر دنیش کنیریا کی۔
گذشتہ ہفتے انہوں نے چہرے سے خود ’’نقاب‘‘ اتارا اور اعتراف کیا کہ وہ ’’پیسے پر تماشہ‘‘ کرتے تھے تو ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ آیا 2009میں فکسنگ میں ملوث رہنے والے دنیش کنیریا جو طویل عرصے تک اس جرم کی صحت سے انکار کرتے رہے ،آخر اس کا اعتراف بھی انہوں نے غیر ملکی میڈیا کے سامنے ہی کیوں کیا؟۔ کہیں جس طرح ’’پیسے پر تماشہ‘‘ کرنے کا جرم کیا تھا کہیں اسی طرح جرم کا اعتراف بھی ’’پیسے پر تماشہ‘‘ دکھاتے ہوئے تو نہیں کیا۔
بہرحال ! قیاس کیا جارہا ہے کہ دنیش کنیریا کا اعتراف صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ ابھی اس ’’تماشے‘‘ کی مزید اقساط بھی وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گی اور ہربار اس کے آفٹر شاکس پاکستان کرکٹ کو ضرورہلا کررکھ دیں گے۔
حال ہی میں الجزیرہ نے جب فکسنگ تماشے کی نئی قسط جاری کی تو ساتھ ہی اپنی رپورٹ میں بھارتی مبینہ بکی انیل منور اور کارندوں کی مشہور زمانہ کرکٹرزکے ساتھ تصاویر بھی جاری کیں جن میں بھارتی کپتان ویرات کوہلی ، روہت شرما سمیت پاکستانی کرکٹرعمراکمل بھی شامل تھے۔ حالانکہ اس رپورٹ میں واضح ہے کہ مذکورہ کرکٹرز کی بکیز کے ساتھ تصاویر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہوں نے کچھ غلط کیا ہے۔
اسی طرح جون 2018 میں سما کیلئے جب میں نے عمر اکمل کا انٹرویو کیا تو انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ڈاٹ بال کھیلنے کیلئے فکسنگ کی آفر کی گئی جو مسترد کردی تھی۔
یہاں ایک سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ آخر آئی سی سی اور ممبران کرکٹ بورڈز کے اینٹی کرپشن یونٹس کیا کررہے ہیں؟کیا یہ میڈیا کی ہی ذمہ داری ہے کہ جنٹلمین کے کھیل کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والوں کو وہی بے نقاب کرے؟ ۔
سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخران کرکٹرز کو پیسے کی اتنی ہوس کیوں ہوجاتی ہے؟ حالانکہ انہیں انٹرنیشنل میچ کھیلنے کی اچھی خاصی رقم ملتی ہے اور چاہنے والے بھی انہیں پیسے میں اکثروبیشتر تولتے رہتے ہیں پھر ’’پیسے پر تماشہ‘‘ کرکے وہ کیوں اس کھیل کی ساکھ تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر کرکٹ کو چلانے والی عالمی کونسل کیوں نہیں ایسے اقدامات اٹھاتی کہ یہ کٹھ پتلیاں نشان عبرت بن جائیں اور دوبارہ کوئی ایسا کرنے کی جرات ہی نہ کرے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے