”نگران حکومت کے دوران ہی چین سے تمام معاملات طے پاگئے تھے“ وزیراعظم کے دورہ چین سے قبل ہی تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

وزیراعظم عمران خان تین نومبر کو چین کے دورے پر جارہی ہیں اور اس ضمن میں مختلف معاہدوں اور سفارتی سطح پر کامیابی قراردیتے ہوئے حکومتی وزراءبڑے بڑے دعوے کررہے ہیں لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ دراصل نگران حکومت ہی ان معاہدوں اور نئے وزیراعظم کے دورہ چین کی راہ ہموار کرگئی ہے ۔ چین نے پاکستان کو تجارت کیلئے خصوصی رعایت دینے اوروزیراعظم پاکستان کو مہمان خصوصی کے طورپر بلاکر سرمایہ کاری کرانے کی یقین دہانی کرادی تھی ۔

منسٹری آف کامرس کے میٹنگ منٹس کے مطابق پاکستان میں چین کے سفیر ژاﺅ جنگ نے 10اگست 2018ئ(نگران دورحکومت میں) کو وزیرکامرس میاں مصباح الرحمان سے ان کے آفس میں ملاقات کی جس میں ایڈیشنل سیکریٹری جاوید اکبر اور جوائنٹ سیکریٹری نے بھی شرکت کی ، اس دوران پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور معاشی تعلقات سے متعلق کئی معاملات زیربحث آئے ۔ ملاقات کے دوران چین کے سفیر نے بتایاکہ چینی حکومت نومبر2018ءمیں ہونیوالے چائنہ امپورٹ فیسٹول کے لیے پاکستان کے نئے وزیراعظم کو مہمان خصوصی کے طورپر بلانے پر غور کررہی ہے اور اس دورے کو مزید مفید بنانے کے لیے چینی سفیر نے تجویز دی کہ وزیراعظم کے دورے سے قبل وزیرکامرس یا سیکریٹری کامرس کی سربراہی میں ایک وفد چین کا دورہ کرے جو وزیراعظم کے دورے کا ایجنڈا تیارکرے اوران شعبوں کی نشاندہی کرے جہاں تعاون ہوسکتاہے ۔

مہمان سفیر نے بتایاکہ سی پیک کا بنیادی ہدف توانائی اور مواصلات سے متعلق منصوبے ہیں ، چینی حکومت نے تجارت میں توسیع، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری اور سوشل سیکٹرمیں تعاون کے ذریعے پاکستان کیساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں شعبہ جات کی بھی نشاندہی کرلی گئی ، چینی حکومت یہ اعلان کرنے پر غور کررہی ہے کہ پاکستان کی چین کیلئے برآمدات میں اضافے کے لیے یک طرفہ طورتجارت میں خصوصی تجارتی رعایت دی جائے، چینی کسٹمز کا ایک وفد جلد ہی پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ مارکیٹ کا جائزہ لیاجاسکے اور ان معاملات پر غور کیاجاسکے جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق چینی سفیر نے بتایاکہ چینی حکومت پاکستان میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری لانے کے لیے چینی حکومت جوائنٹ وینچرکو فروغ دینے کے لیے خصوصی اقدامات اور سپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاری کرے گی ، انہوں نے تجویز دی کہ شنگھائی امپورٹ فیسٹول پاکستان کیلئے اپنی انویسٹمنٹ پوٹینشل دکھانے کا بہترین موقع ہے ۔

تحریک انصاف کے حکومت سنبھالنے سے قبل ہونیوالی اس ملاقات کے دوران نگران وزیر نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے اس خلاءکو پرکرنے کے لیے خصوصی اقدامات پر زور دیا جس پر چینی سفیر نے بتایاکہ چینی کرنسی یوآن میں باہمی تجارت کرنے سے اس خلاءکو پرکیاجاسکتا ہے اور اس ضمن میں سٹیٹ بینک کے حکام کیساتھ میٹنگ ہونا باقی ہے

کامرس منسٹر نے پاکستانی تاجر کمیونٹی کو درپیش ویزا کے مسائل بھی اٹھائے اور باہمی تجارت میں اضافے کے لیے اس کی اہمیت اجاگر کی جس پر چینی سفیر نے جلد ازجلد ویزا مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ اس دوران نگران وفاقی وزیر نے پاکستان کے آٹوموبائل سیکٹر میں چینی سرمایہ کاری کو سراہا ۔ ملاقات کے آخر میں چینی سفیر نے نئی حکومت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے تعاون کرنے کا عندیہ دیا اور امید ظاہر کی کہ نئی حکومت تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے کر جائے گی ۔

 

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment