عمران خان اپنے گھر کا جرمانہ ادا کرکے مثال قائم کریں،چیف جسٹس

بنی گالہ میں غیر قانونی تعمیرات کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عمران خان آج ہی فیصلہ کرکے اپنے گھر کا جرمانہ ادا کریں، اگر تعمیرات ریگولرائز کرنے کا فیصلہ آج نہیں ہوتا تو وزیراعظم خود آکر وضاحت دیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسلام آباد کے بنی گالا میں غیر قانونی تعمیرات کے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کے آغاز پر چیف جسٹس نے بنی گالا میں جائیدادوں کی ریگولرائزیشن نہ کرائے جانے پر اظہار برہمی کیا۔
 
چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود وزیراعظم عمران خان کے وکیل بابر اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو بتائیں کہ ریگولرائزیشن کروائیں، لیڈر کو مثال قائم کرنی پڑتی ہے، یہ آپ کے لیے اچھا نہیں ہوگا، آپ نے 10 روز کا وقت مانگا تھا، ابھی تک کوئی پیش رفت کیوں نہیں ہوئی؟۔
 
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان نے خود یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ اب اِسے حل بھی کریں، وزیراعظم دوسروں کیلئے مثال بنیں اور جرمانہ ادا کر کے گھر ریگولر کروانا ہے تو دیر نہ کریں، حکومت اِس مسئلے پر کچھ نہیں کر رہی، آج فیصلہ نہیں ہوتا تو وزیراعظم خود آکر وضاحت دیں، جس پر وزیراعظم کے وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان جرمانہ ادا کرنے کو تیار ہیں۔
 
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ سی ڈی اے میں سب سے زیادہ گڑ بڑ شروع ہوگئی ہے، خوشحال خان اور ارشد جیسے افسران ادارے کو نہیں چلنے دینگے۔
 
اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیئر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری داخلہ نے عدالت کے حکم پر بنائی گئی ریگولرائزیشن کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد کیا ہے، صرف 10 دن کی مہلت دے دیں، جسٹس ثاقب نثار نے مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن کی بھی مہلت نہیں دیں گے، آج ہی رپورٹ جمع کروائی جائے، بعد ازاں کیس کی مزید سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے