شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 7 نومبر تک توسیع

نیب کی استدعا پر عدالت نے آشیانہ ہاوسنگ اسکیم میں گرفتار شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 7 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے تین روزہ راہداری ریمانڈ بھی منظور کرلیا۔ کیس کی سماعت 7 نومبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔
پیر کے روز پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو سختی سیکیورٹی میں نیب عدالت لاہور میں تیسری بار پیش کیا گیا۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار شہباز شریف روسٹرم پر آئے اور عدالت سے درخواست کہ مجھے اجازت دیں کچھ کہنا چاہتا ہوں، جس پر عدالت نے شہباز شریف کو دفاع میں بولنے کی اجازت دے دی۔
 
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انہیں صحت کے مسائل درپیش ہیں، تاہم حکام ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے، میں نے کچھ میڈیکل ٹیسٹ کروانے کا کہا، مگر جواب ملا اُوپر بتا دیا ہے، جواب آنے پر بتادیں گے، میرا ریگولر میڈیکل چیک اپ ضروری ہے، مگر نہ شوگر چیک ہوتی ہے، نہ بلڈ ٹیسٹ ہوئے، صحت کے مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، مجھے بلیک میل کیا جاتا ہے، اخبار بھی نہیں دیا جاتا ہے۔
 
نیب کی جانب سے عائد الزامات کا شہباز شریف نے خود دفاع کیا اور کہا کہ صاف پانی کیس میں بلایا گیا اور آشیانہ کیس میں گرفتار کرلیا، کوئی دن ایسا نہیں گزارا جب صاف پانی اور آشیانہ پر سوال نہ کیا ہو، میں صبر اور تحمل سے یہ سب برداشت کر رہا ہوں، میں نے قوم کے اربوں روپے بچائے ہیں، نیب والے سچ بولنے کے بجائے سچ چھپا رہے ہیں۔
 
نیب وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف تین بار وزیراعلیٰ رہے، جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو یہ جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کرتے ہیں۔
 
دوران سماعت شہباز شریف اور پراسیکیوٹر نیب کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، نیب پراسیکیورٹر نے کہا کہ آپ کیس پر بات کریں، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ عدالت سے بات کررہا ہوں، میرے ساتھ بہت ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے، یہ میرا گناہ ہے کہ میں نے پنجاب کی حالت بدل دی، فیملی سے ہفتہ وار ملاقات تک نہیں کروائی جا رہی۔
 
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ آشیانہ اقبال کی قیمت 23 ارب روپے تھی، فیزبیلٹی 14 ارب روپے بتائی گئی، شاہد شفیق ٹھیکے کا اہل نہیں تھا، 2 ہزار کنال اراضی پراگون کو دی گئی، گزشتہ سماعت پر تفتیش کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی۔ شہباز شریف نے نیب کے وکیل کو فزیبلٹی پر ٹوک دیا۔
 
عدالت نے نیب وکیل سے استفسار کیا کہ یہ 15 ارب اور 23 ارب کا کیا چکر ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ یہ زمین کی قیمت ہے جو آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کے لیے تھی، ہم نے جب احد چیمہ سے تفتیش کی تو یہ رقم سامنے آئی۔ تفتیشی افسر نے کہا ایل ڈی اے نے 14 ارب کی فزیبیلیٹی تیار کی تھی، اس اسکیم کی فزیبیلیٹی رپورٹ جعل سازی سے تیار کی تھی، پیرا گون کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
 
شہباز شریف نے تفتیشی افسر کی رپورٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نیب یہ سوال مجھے سے دس مرتبہ پوچھ چکے ہیں، میں نے کہا ہے کہ یہ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں یہ سوال ایل ڈی اے سے پوچھیں۔ اس موقع پر  نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 15 روز کی توسیع کی درخواست کردی، جس پر شہباز شریف کے وکیل نے نیب کی درخواست کی مخالفت کی۔
 
عدالت نے نیب کی 15 روزہ ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں 7 نومبر تک توسیع کردی، جب کہ 3 روز کیلئے راہداری ریمانڈ بھی منظور کرلیا گیا۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے