آشیانہ اقبال ہاﺅسنگ سکینڈل، شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈمیں 7 نومبر تک توسیع

احتساب عدالت لاہور نے آشیانہ اقبال ہاﺅسنگ سکینڈل میں گرفتار سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی نیب کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا، عدالت نے صدر ن لیگ کے جسمانی ریمانڈمیں 7 نومبر تک توسیع کردی، عدالت نے شہبازشریف کا 3 روزہ راہداری ریمانڈ بھی منطور کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکینڈل میں احتساب عدالت پیش کیا گیا، عدالت کے اطراف میں ملحقہ سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا،اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو سخت سیکورٹی حصار میں عدالت لایا گیا، کارکنان کی جانب سے نعرے بازی کی گئی۔ ن لیگی رہنما حمزہ شہباز بھی احتساب عدالت میں موجود تھے۔ نیب کی جانب سے نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ جبکہ شہباز شریف کی جانب سے ان کے وکیل امجد پرویز دلائل پیش ہوئے۔

نیب پراسیکیوٹروارث جنجوعہ نے احتساب عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آشیانہ اقبال سکیم کی قیمت 23 ارب روپے تھے،فزیبیلٹی 14 ارب روپے بتائی گئی تھی،نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ شاہدشفیق ٹھیکے کااہل نہیں تھا،2 ہزارکنال اراضی پیراگون کودی گئی۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے نیب کے وکیل کوفزیبلٹی پرٹوک دیا،عدالت نے نیب وکیل سے استفسار کیا کہ یہ 15 ارب اور 23 ارب کاکیاچکر ہے؟نیب وکیل نے کہا کہ یہ زمین کی قیمت ہے جو آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کیلئے تھی،ہم نے جب احدچیمہ سے تفتیش کی تویہ رقم سامنے آئی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ایل ڈی اے نے 14 ارب کی فزیبیلٹی تیارکی تھی،سکیم کی فزیبیلٹی رپورٹ جعلسازی سے تیارکی گئی،پیراگون کوفائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی،شہبازشریف نے کہا کہ نیب افسران یہ سوال مجھ سے 10 بارپوچھ چکے ہیں،میں نے کہامجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں،یہ سوال ایل ڈی اے سے پوچھیں،شہبازشریف نے پنجاب پبلک پارٹنرشپ کی دستاویزات بھی عدالت پیش کردیں۔

شہبازشریف نے کہا کہ نیب نے جوصاف پانی کمپنی کاالزام لگایاان کاصفایابھی کردیا،آشیانہ ہاؤسنگ سکیم سے متعلق الزامات پربھی ان کی تسلی کرادی،اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہبازشریف غلط بات کررہے ہیں،شہبازشریف 2 باروزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں،سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ غلط بات کررہے ہیں،میں 3 باروزیراعلیٰ رہ چکاہوں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہبازشریف کوجواب دینے کے بجائے سوال کرنے کی عادت ہے،عدالت سے استدعا ہے کہ شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈمیں 15 روزتوسیع کی جائے۔

دوران سماعت خاتون وکیل شہبازشریف کے حق میں بول پڑیں،جج نے خاتون وکیل کے سوال پر جواب میں کہا کہ ہمیں پتہ ہے آپ بھی یہاں موجودہیں،جج کے جواب پرکمرہ عدالت میں قہقہہ لگ گئے۔

شہبازشریف کے وکیل کی نیب درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جسمانی ریمانڈمیں توسیع نہیں ہونی چاہیے،احتساب عدالت لاہور نے شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی نیب کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا، عدالت نے صدر ن لیگ کے جسمانی ریمانڈمیں 7 نومبر تک توسیع کردی، عدالت نے شہبازشریف کا 3 روزہ راہداری ریمانڈ بھی منطور کر لیا۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment