پی ٹی آئی کی 3خواتین ارکان کی نااہلی سے متعلق درخواست سماعت کیلئے منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی 3 خواتین ارکان قومی اسمبلی کی اہلیت سے متعلق درخواستیں قابل سماعت قرار دے دیں۔
تحریک انصاف کی ارکان ملیکہ بخاری، تاشفین صفدراورکنول شوذب شامل پردہری شہریت چھپانے اورغلط بیانی کا الزام ہے۔تینوں کے خلاف درخواست عبداللہ خان نامی شہری نے دائر کر رکھی ہے۔ جسٹس عامرفاروق نے ابتدائی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے درخواست کو قابل سماعت قرار دے دیا گیا۔
ہائیکورٹ نے تینوں خواتین ارکان اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا۔پی ٹی آئی کی یہ تینوں خواتین ارکان مخصوص نشستوں پرایم این ایز منتخب ہوئی ہیں۔درخواست میں الیکشن کمیشن اور تینوں خواتین کو فریق بنایا گیا ہے۔
ابتدائی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا تینوں ممبران اسمبلی کی دہری شہریت تھی ۔درخواست گزارعبداللہ خان کے وکیل احمد رضا قصوری نے بتایا کہ دو کے پاس دہری شہریت تھی جبکہ ایک نے ہائی کورٹ میں غلط معلومات دیں۔
وکیل کے مطابق ملیکہ بخاری کاغذات نامزدگی کی آخری تاریخ تک دہری شہریت رکھتی تھی جبکہ تاشفین صفدر نے بھی دوہری شہریت کے حوالے سے معلومات چھپائیں۔ کنول شوذب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں غلط بیانی کی۔احمد رضا قصوری نے استدعا کی کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت تینوں کو نااہل کیا جائے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواستیں قابل سماعت قراردےدیں۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے