بلین ٹری سونامی میں ماحول دشمن درخت لگانے کا انکشاف، تحقیقات کا حکم

خیبر پختونخوا میں بلین ٹری سونامی کے دوران ماحول دشمن درخت لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی حکومت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔
گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے نشاندہی کہ صوبے میں بلین ٹری منصوبے کے دوران ماحول دشمن درخت لگائے گئے ہیں جو ماحول کو خوشگوار بنانے کے بجائے نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔
اپوزیشن ارکان سردار حسین بابک اور عنایت اللہ خان و دیگر نے کہا کہ جن علاقوں میں پانی کی پہلے سے قلت تھی وہاں یوکلپٹس کے درخت لگائے گئے ہیں جو ماحول پر خطرناک اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ زیر زمین پانی ختم ہورہا ہے۔
وزیر بلدیات شہرام خان نے اپوزیشن کی نشاندہی پر نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
 
یہ بھی پڑھیں: بلین ٹری سونامی: محکمہ جنگلات نے ماحول دشمن درخت لگا دیے
 
واضح رہے کہ سماء کی جانب سے گزشتہ ماہ یہ انکشاف کیا گیا تھا۔ سوات کے پہاڑوں پر بھی بڑی تعداد میں یوکلپٹس لگائے گئے ہیں جس کے باعث آس پاس کے خودرو اور ماحول دوست درخت سوکھ رہے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے حکام نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا۔
یوکلپٹس یعنی لاچی کیسا درخت ہے
یہ درخت کونوکارپس کی طرح انتہائی سخت جان ہے اور زیر زمین پانی کو بہت تیزی سے بڑی مقدار میں جذب کرتا ہے۔ اسی وجہ سے یوکلپٹس کے ارد گرد دوسرے درخت یا پودے سوکھ جاتے ہیں۔
 یہ ایسے علاقوں کے لیے مناسب ہے جہاں پانی کی فروانی ہو یا یوں کہیے کہ پانی ضرورت سے زیادہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اٹلی کے لوگوں نے اس خصوصیت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بحیرۂ اسود کی دلدلی زمین کا پانی خشک کرنے اور مچھروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے ان علاقوں میں  یوکلپٹس کے درخت لگائے۔‏ اب یہ ایک قیمتی زرعی قطعہ بن چکا ہے۔‏
لیکن جہاں پہلے ہی پانی کی قلت ہو، ان علاقوں میں یہ درخت لگانا پرلے درجے کی بے وقوفی اور ماحول دشمنی ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ درخت اس قدر تیزی سے پھیلتا ہے کہ کسی جگہ ایک درخت لگا دو، چند سالوں میں وہ علاقہ یوکلپٹس کا جنگل بن جائے گا۔
یہاں تک کہ اگر آپ اس کو کاٹ دیں تو اس کی جروں سے مزید بے شمار پودے اگ جاتے ہیں۔ یعنی ایک ہی درخت کی جگہ درختوں کا پورا جھنڈ نکل آتا ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے