جمال خاشقجی کا قتل: اردوغان اپنے پتے اتنی احتیاط سے کیوں کھیل رہے ہیں؟

ترکی کے رجب طیب اردوغان کسی پر گرجنے برسنے سے کم دریغ ہی کرتے ہیں۔ ان کے نشانے پر آنے والوں کی فہرست لمبی ہے: اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، اسرائیل، فرانسیسی دانشور، نیدرلینڈز، جرمنی ۔۔۔ ان میں سے موخرالذکر دونوں ملکوں کو وہ ‘نازی’ اور ‘فاشسٹ’ قرار دے چکے ہیں۔

اب اس کا موازنہ اردوغان کے سعودی عرب کے شاہ سلمان سے اندازِ تخاطب سے لگائیے، جنھوں نے تسلیم کر رکھا ہے کہ جمال خاشقجی استنبول میں ان کے قونصل خانے میں قتل ہوئے: ‘میرے پاس شاہ سلمان کی دیانت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔’

ان کے ترجمان نے سعودی عرب کو ‘دوستانہ اور برادرانہ ملک’ قرار دیا۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے