زبردست ہڑتال-چارسو پٹرول اسٹیشن -آٹو رکشہ بند/دہلی

یوپی اور ہریانہ میں ڈیزل اورپٹرول سستا ہونے کی وجہ سے دہلی میں آمدنی کم ہونے پر ناراض دہلی کے پٹرول پمپ مالکان نے پیر کو ہڑتال کا اعلان کردیا۔ ہڑتال کی وجہ سے تقریباً 400پٹرول اور سی این جی اسٹیشن بند کردیئے گئے۔ پٹرول پمپ اسٹیشن مالکان کا کہنا ہے پڑوسی ریاستوں نے ویٹ میں کمی کرکے پٹرول کے نرخ کم کردیئے۔ یوپی کے مقابلے دہلی میں پٹرول کی قیمتیں3روپے اور ڈیزل 2روپے زیادہ ہیں۔اس کی وجہ سے دہلی کے صارفین یوپی جاکر پٹرول خرید رہے ہیں۔ آل انڈیا پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے قومی صدر اجے بنسل نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ عام صارفین کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے۔ دہلی حکومت ایسا فارمولا بنائے جس سے کم سے کم این سی آر میں پٹرول اور ڈیزل کے نرخ یکساں ہوں۔ ریاست دہلی میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں پر سیاست کا بازار گرم ہوگیا۔ بی جے پی اور ’’آپ ‘‘پارٹیوں نے ایک دوسرے کو ہدف تنقید بنایا۔وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ پٹرول اسٹیشنوں کے مالکان نے مجھے ذاتی طور پر بتایا کہ یہ ہڑتال بھاجپا کی سرپرستی میں کی جارہی ہے۔ اسے تیل کمپنیوں کا تعاون حاصل ہے۔ بی جے پی پٹرول اسٹیشن مالکان پرہڑتال کیلئے زور دے رہی ہے۔وزیر اعلیٰ کیجریوال نے کہاکہ عوام آئندہ انتخابات میں اس کا جواب دینگے۔دہلی بی جے پی صدر منوج تیواری نے کہا کہ دوستو، بھائیو اور بہنو! دفتر جانے سے قبل وہ اپنی گاڑیوں میں پٹرول بھروالیں ورنہ میٹرو سے سفر کریں۔ ڈی سی سی کی بسوں کا کرایہ وزیر اعلیٰ نے ایک تہائی زیادہ کردیا ہے۔ ضد کاہے کی !پٹرول ، ڈیزل پر ویٹ 5روپے کم کردینی چاہئے۔واضح ہو کہ ہڑتال میں 15سے زائد ٹیکسی اور آٹو رکشہ تنظیمیں شامل ہیں۔ہڑتالیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کرایوں میں مناسب اضافہ کرے ،کمپنیوں نے جن ڈرائیوروں کو کام سے روک دیا ہے انہیں بحال کیا جائے۔ ہڑتال کی وجہ سے اولا ، یوبر کے علاوہ دہلی این سی آر میں 60ہزار سے زائد ٹیکسی اور 95ہزار آٹورکشہ سڑکوں پر نہیں آئے۔مظاہرین نے آل انڈیا ٹورسٹ پرمٹ ٹرانسپورٹ کی خدمات بند کرانے کے بعد پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment