نہ آڈیو سنایا اور نہ سنائیں گے ، ترک وزیر خارجہ

ترک وزیر خارجہ مولود اوغلو نے واضح کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی سے متعلق کوئی بھی آڈیو نہ تو امریکہ کو دی گئی ہے اور نہ ہی کسی اور ملک کو اس سلسلے کی اطلاعات دینے کا کوئی ارادہ ہے۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے ترکی سے واپسی پر امریکی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے خاشقجی سے متعلق کوئی ریکارڈنگ نہیں سنی۔ترک وزیر انصاف نے البانیہ کے ہم منصب کے ساتھ جمعہ کو انقرہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ترک حکام نے نہ تو امریکی وزیر خارجہ پومپیو کو خاشقجی کی بابت کوئی آڈیو فراہم کی ہے اور نہ ہی کسی اور امریکی عہدیدار کو اس سلسلے کی کوئی ریکارڈنگ پیش کی ہے ۔ترک حکام خاشقجی سے متعلق شفاف تحقیقات کر رہے ہیں ۔پوری دنیا کو تحقیقاتی کمیشن کے نتائج سے آگاہ کیا جائیگا ۔ کسی بھی ملک کو خاشقجی سے متعلق کسی بھی اطلاع میں شریک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکی چینل اے بی سی نیوز نے رپورٹ جاری کی تھی کہ امریکی وزیرخارجہ کو مشرق وسطیٰ کے دورے کے موقع پر خاشقجی کی گمشدگی سے متعلق ریکارڈنگ سنوائی گئی ہے ۔ پومپیو نے اے بی سی نیوز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نہ کوئی ریکارڈنگ سنی اور نہ ہی مجھے کوئی دستاویز دکھائی گئی ۔ یہ مسئلہ نہایت خطرناک ہے ۔ اس کا ریکارڈ فوراً صاف کر دیا جائے ۔ علاوہ ازیں امریکی دفتر خارجہ نے بھی واضح کیا کہ خاشقجی کی گمشدگی سے متعلق نہ کوئی ثبوت دیکھا اور نہ ہی اس سلسلے کی کوئی ریکارڈنگ سنی گئی۔ اس حوالے سے امریکی نیٹ ورک اے بی سی نے جو رپورٹ جاری کی ہے وہ گمراہ کن ہے۔ امریکی دفترخارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ اے بی سی نے جو رپورٹ جاری کرکے دعویٰ کیا ہے کہ ترک عہدیداروں اور امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے 2اکتوبر کو استنبول میں جمال خاشقجی کے قتل کی بابت کوئی ریکارڈنگ سنی ہے ، اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ پومپیو نے کوئی ریکارڈنگ نہیں سنی، کوئی ثبوت نہیں دیکھا۔ خاشقجی کی گمشدگی سے متعلق کسی طرح کی کوئی دستاویزنہیں دیکھی۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment