ڈیلیٹ فارایوری ون : واٹس ایپ نے فیچر میں بڑی تبدیلی کردی

پیغام رسانی کی سب سے بڑی موبائل ایپلیکشن واٹس ایپ نے بھیجے گئے میسج حذف کرنے سے متعلق متعارف کرائے جانے والے فیچر میں بڑی تبدیلی کردی۔ موبائل فون کی معروف مسیج ایپلیکشن واٹس ایپ کے دنیا بھر میں کروڑوں صارفین موجود ہیں جن کو سہولیات اور آسانیاں فراہم کرنے کے لیے کمپنی مختلف اوقات میں نت نئے فیچرز اور سروسزمتعارف کرواتی رہتی ہے۔ واٹس ایپ پر نظر رکھنے والے ادارے ’ڈبلیو اے بیٹا انفو‘ نے گزشتہ دنوں انکشاف کیا تھا کہ انتظامیہ نے ’ڈیلیٹ فار ایوری ون‘ فیچر میں بڑی تبدیلی پر کام شروع کردیا۔ ڈبلیو

بیٹا انفو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر واٹس ایپ کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تبدیلی کے حوالے سے آگاہ کیا کہ انتظامیہ نے میسج حذف کرنے کے دورانیے کو بڑھتے ہوئے اسے 13 گھنٹے 8 منٹ اور 16 سیکنڈ تک کردیا۔ اطلاعات کے مطابق ’اگر صارف گروپ یا کسی نمبر پر میسج بھیج کر اسے ’ڈیلیٹ فار ایوری ون‘ کے ذریعے حذف کرے اور پیغام وصول کرنے والے کو اس دوران منسوخی کی درخواست وصول نہ ہوسکی تو یہ میسج ڈیلیٹ نہیں ہوسکے گا‘۔ آسان الفاظ میں اگر پیغام وصول کرنے والے صارف کا موبائل انٹرنیٹ سے منسلک نہ ہو یاپھر موبائل بند ہو اور مقررہ وقت گزر جائے تو اس پیغام کو ڈیلیٹ نہیں کیا جاسکتا۔ واٹس ایپ کی جانب سے یہ اقدام ان صارفین کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے ’ڈیلیٹ فار ایوری ون‘ فیچر سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ہفتوں یا مہینوں کے بعد پیغامات کو حذف کردیتے تھے۔ یاد رہے کہ پیغام رسانی کی سب سے بڑی ایپلیکشن کی جانب سے 2 برس قبل ایک فیچر متعارف کرایا گیا تھا جس کے تحت صارفین اپنے بھیجے گئے پیغام کو 7 منٹ کے اندر حذف کرسکتا تھا بعد ازاں عوامی خواہش کے پیش نظر انتظامیہ نے اس کا دورانیہ ایک گھنٹہ، 8 منٹ اور 16 سیکنڈز تک بڑھا دیا تھا۔ بعد ازاں مارچ 2018 کمپنی نے پیغامات کو حذف کرنے کے لیے نیا فیچر Block Revoke Request کے نام سے متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جس کے تحت صارفین کسی بھی پیغام کو آسانی سے ڈیلیٹ نہیں کرسکتے بلکہ اس کے لیے انہیں انتظامیہ کو باقاعدہ درخواست بھیجنا پڑتی تھی۔ واٹس ایپ کی جانب سے میسج ڈیلیٹ کرنے کا دورانہ بڑھا دیا گیا مگر یہ کچھ صارفین کے لیے بری خبر بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بعض لوگ بند نمبروں پر میسج بھیج کر اُسے مقررہ وقت کے بعد بھی ڈیلیٹ کردیتے تھے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment