حکومت کا اسلحہ لائسنسز کیلئے نئی پالیسی بنانے کا فیصلہ

پچھلی حکومت نے خود کاراسلحے اور ممنوعہ بور کے اسلحہ لائنسز ختم کردیے تھے،اسلحہ سے متعلق نئی پالیسی بنانا ہوگی، صوبوں کو فیصلہ کرنا ہے اسلحہ لائسنزسے متعلق کیا پالیسی ہونی چاہیے۔ وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری کی پریس کانفرنس
فاقی حکومت نے اسلحہ لائسنسزکے اجراء کیلئے نئی جامع پالیسی بنانے کا فیصلہ کرلیا، نئی پالیسی کی منظوری کابینہ اجلاس میں لی جائے گی، ممنوعہ اورغیرممنوعہ بورکے لائسنسزکے اجراء پررپورٹ بھی کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت کردی گئی۔ وزیراطلاعات فواد چودھری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ممنوعہ اورغیرممنوعہ بورکے لائسنسزکے اجراء پررپورٹ بھی کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
پچھلی حکومت نے خود کاراسلحے اور ممنوعہ بور کے اسلحہ لائنسز ختم کردیے تھے۔ صوبوں کو فیصلہ کرنا ہے اسلحہ لائسنزسے متعلق ان کی کیا پالیسی ہوگی۔ اسلحہ لائسنس سے متعلق وزارت قانون سپریم کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن واپس لے گی۔ صوبوں کو فیصلہ کرنا ہے اسلحہ لائسنس سے متعلق ان کی کیا پالیسی ہوگی۔
ملک میں اسلحہ سے متعلق نئی پالیسی بنانا ہوگی۔
فواد چودھری نے کہا کہ فاٹا میں باقاعدہ ادارے نہیں ہیں۔ فاٹا کے انضمام کی جانب ہم بڑھ رہےہیں۔ این ایف سی ایوارڈ میں چاروں صوبوں کی ایڈجسٹمنٹ کرنی ہے۔ فاٹا سیکریٹریٹ ختم ہوجائیگا ،انتظامیہ ڈھانچہ چیف منسٹر سیکریٹریٹ کے ماتحت ہوجائے گا۔ کابینہ اجلاس میں فاٹا اصلاحات سے متعلق جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں کو حصہ فاٹا کیلیے دینا پڑے گا۔
این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا اپنا حصہ کم کرینگے اور فاٹا کو 3 فیصد دینگے۔ وزیر اعظم نے فوری طور پر این ایف سی ایوارڈ کے طریقہ کار پر نظرثانی کا کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی اور معاملات کو حل کرنا تحریک انصاف کا ایجنڈا ہے۔ بلوچستان اورکراچی کا اوپر جانا بہت ضروری ہے۔ شکایات ہیں کہ کراچی کے فنڈز ٹھیک طرح سے استعمال نہیں ہورہے ہیں۔ کراچی نے پاکستان تحریک انصاف پر بھرپور اعتما د کا اظہار کیا ہے۔ کراچی کو بھرپور طریقے سے وفاق میں نمائندگی ملی ہے۔ کراچی کے حالات کی بہتری کیلئے ٹاسک فورس بنائی ہے جو گورنر سندھ کی سربراہی میں کام کرے گی۔ پہلی بار کراچی لسانی سیاست سے باہر آیا ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment