بڑی خبر/بغیر دوپٹہ پر پابندی عائد

سول سیکرٹریٹ منسٹر بلاک میں بغیر دوپٹہ آنے والی خواتین کو داخلے سے روک دیا گیا۔ سول سیکرٹریٹ کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے بغیر دوپٹہ آنے والی خواتین کو داخلے سے روک دیا ۔ سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے حکم پر ہی بغیر دوپٹہ آنے والی خواتین کے سول سیکرٹریٹ منسٹر بلاک میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے زبانی احکامات جاری کیے۔ پابندی ڈاکٹر یاسمین راشد سے ملاقات کے لیے آنے والی ایک خاتون کی وجہ سے عائد کی گئی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد سے ملاقات کے لیے آنے والی مذکورہ خاتون کا لباس مبینہ طور پر نامناسب تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ایک ویڈیو میں سول سیکرٹریٹ منسٹر بلاک آنے والی ایک خاتون کو سکیورٹی پر مامور افسر کے ساتھ اس معاملے پر بحث کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

بحث و مباحثے کے بعد خاتون نے کہا کہ میرے پاس دوپٹہ تو ہے ہی نہیں، اب میں کیا کروں ؟ اس پر پولیس افسر نے خاتون کو مشورہ دیا کہ آپ کوئی چھوٹا سا دوپٹہ بے شک کندھے پر لٹکا لیں ہمیں اعتراض نہیں ہے لیکن دوپٹہ ضرور ہونا چاہئیے۔ خاتون کو ویڈیو میں پولیس اہلکار سے بحث کرتے ہوئے سُنا گیا لیکن پولیس اہلکار نے نہایت پُرسکون انداز میں اپنی مجبوری بتائی۔
سکیورٹی اہلکار نے کافی دیر بحث و مباحثےکے بعد بھی خاتون کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی اور بغیر دوپٹہ آنے والی خاتون کو واپس بھیج دیا۔اس معاملے پر مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مجھے یہ بات سُن کر یقین نہیں آ رہا ، کیا یہی پی ٹی آئی کی تبدیلی ہے ؟ کیا یہی نیا پاکستان ہے جس کا اتنا شور مچایا جا رہا تھا ؟ ڈاکٹر یاسمین راشد سمجھدار خاتون لگتی تھیں۔
انہوں نے بھی سیاست میں آ کرر ہی سر پر دوپٹہ لینا شروع کیا تھا۔ پہلے وہ بھی ایسے ہی پھرا کرتی تھیں، میرے خیال میں کسی وزیر کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کی دوپٹہ لینے یا نہ لینے سے متعلق رہنمائی کرے ، اسے مجبور کرے یا ایسا کوئی حکم دے۔ عظمٰی بخاری نے کہا کہ ہر صاحب عقل خاتون نے اپنا اور اپنے لباس کا فیصلہ خود کرنا ہے، ڈاکٹر یاسمین راشد اس کی ولی نہیں ہیں جو اس طرح کے احکامات جاری کریں نہ ہی ان کے پاس ایسا کوئی اختیار ہے کہ وہ کسی کا لباس مناسب یا نا مناسب ہونے سے متعلق بیان دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ پی ٹی آئی میں جو کمیونٹی ہے وہاں تو دوپٹے کا ویسے بھی رواج نہیں ہے، کوئی دوپٹہ لے یا نہ لے اس کا فیصلہ کوئی اور نہیں کر سکتا یہ بلا جواز بات ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment