شہباز شریف کی پارلیمنٹ میں تقریر،توہین عدالت

وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر آرٹیکل204کے تحت توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ شہباز شریف کا اپنے مقدمات پر پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔ اگر پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے سزا اور جزا کا تعین ہونے لگا تو ملک کا نظام انصاف رک جائے گا۔ پارلیمنٹ کی کارروائی قانون کے مطابق ہی چلنی چاہیئے۔ ٹی وی انٹرویو میں وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ کسی بھی زیر سماعت مقدمے کی کارروائی کو پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا ۔ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے وہ کسی بھی وقت ملزم کو گرفتار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اپنی تقریر کے آغاز میں تو کہا تھا کہ نیب کے مقدمے کے میرٹ پر بات نہیں کریں گے لیکن بعد ازاں ان کی 95فیصد تقریر مقدمے کے تفتیش کے حوالے سے تھے۔ قومی اسمبلی کے رول31اے کے تحت چونکہ زیر سماعت مقدمے پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہو سکتی۔ اس لئے شہباز شریف کی تقریر آرٹیکل204کے تحت توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ جو باتیں انہوں نے کیں ایک تو یہ مناسب فورم نہیں ، دوسرا ن کی کیس کے حوالے سے بات کا جواب دینے کے لئے نیب کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ فروغ نسیم نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 36کے مطابق چیئر مین نیب یا کسی نیب افسر کو پارلیمنٹ میں طلب نہیں کیا جا سکتا۔ نیب خود مختار ادارہ ہے ۔ وفاقی حکومت یا وزارت قانون ان کے کام میں مداخلت نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اطمینان رکھیں۔ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ شہباز شریف کی گرفتاری کے باعث ترکی، چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کی بات قیاس آرائی پر مبنی ہے۔ ریاستوں کے تعلقات شخصیات سے بالا تر ہوتے ہیں۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment