چئیرمین نیب نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کےالزامات مسترد کر دئے

نیب کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ چئیرمین نیب کا بیان
چئیرمین نیب نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کی جانب سے عائد کیے جانے والے تمام الزامات مسترد کر دئے۔ تفصیلات کے مطابق چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب آفس کا دورہ کیا جہاں انہیں مختلف مقدمات پر بریف کیا گیا۔ چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
نیب کسی انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا۔ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی پاکستان اور صرف پاکستان ہے۔ نیب چئیرمین نے کہا کہ تمام مقدمات اور انکوائریز کو ٹھوس مقدمات اور شواہد کی بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ نیب چئیرمین نے اسی دورے کے دوران سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران سمیت دیگر اُساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے کے معاملے پر ایڈشنل ڈائریکٹر نیب لاہور محمد رفیع کو معطل کر دیا گیا۔
محمد رفیع کو چئیرمین نیب کی ہدایت پر معطل کیا گیا۔ واضح رہے کہ اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے کہا کہ جناب اسپیکر آپ کو یاد ہو گا کہ میں نے الیکشن مہم کے دوران مختلف جگہوں پر یہ بات کُھلے عام کہی کہ پی ٹی آئی اور نیب کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور عمران خان جو دھاندلی کی پیداوار وزیراعظم ہیں وہ اس الیکشن میں دھاندلی کر کے جیتے ہیں اورضمنی انتخاب میں یہی بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور نیب کے گٹھ جوڑ کا ثبوت یہ ہے کہ کس طرح مسلم لیگ ن کے لیڈرز کے خلاف مجھ ناچیز سمیت 13 مئی کو دہشتگردی کے پرچے کاٹے گئے اور دہشتگردی کی دفعات راجہ ظفر الحق سمیت سب پر لگیں۔ نیب کے اندر حاضریاں ، گرفتاریاں بھی ہماری ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ چئیرمین نیب نے میرے گرفتاری کے آرڈرز 6 جولائی اور 13 جولائی کے درمیان دے دئے تھے ،اس وقت شیخ رشید نے کہا تھا کہ شہباز شریف بھی جیل کی ہوا کھائے گا ، انہوں نے یہ بات ایسے تو نہیں کی گئی تھی۔
بعد میں نہ جانے کیا ہوا کہ میری گرفتاری موخر ہو گئی۔ شہباز شریف نے کہا کہ نیب اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ ہے۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے کہا کہ مجھے نیب نے کہا کہ خواجہ آصف کے خلاف گواہی دیں گے۔میں نے کہا کہ آپ نے مجھے وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے بلایا ہے؟۔خواجہ آصف کے خلاف گواہی کی بات پر میں نے کہا کہ زبان سنبھال لیں۔نیب سے کہا کہ آپ کو خیال نہیں آتا یہ انتہائی شرمناک بات ہے۔
رپورٹ ملتی تھی کہ نیب کے اندر میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائے جا رہے ہیں۔نیب والے ہر کسی کو کہتے ہیں کہ شہباز شریف کے خلاف گواہی دو گے تو تمیں اچھی نوکری دیں گے۔افسروں کو کہا جاتا تھا کہ شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جاو تمہیں چیف سیکرٹری بنا دیں گے،اس بات کا یقین مجھے تب ہوا جب مجھے خود وعدہ معاف بننے کے لیے کہا گیا۔ تاہم اب چئیرمین نیب نے مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment