جانیے سعودیہ کی کس دھمکی سے اب ٹرمپ بھیگی بلی بن گیا

امریکی اسلحے کے سب سے زیادہ خریدار مشرق وسطیٰ میں ہیں اور اسلحے کا مجموعی طور پر سب سے بڑا گاہک سعودی عرب ہے۔

اس مہینے کے شروع میں، صدر ٹرمپ نے سعودی حکمران شاہ سلمان کو بتایا کہ وہ امریکی فوج کی حمایت کے بغیر ‘دو ہفتوں’ کو بھی حکومت نہیں کرسکتا تھا، جس میں سعودی جنگ کے عہد کے جواب میں کہا گیا کہ ان کا ملک امریکہ کے بغیر ھی وجود میں آیا ہے.

لیکن اس وقت سعودی امریکی شہری اور صحافی جمال خورشید کی گمشدگی بہت سنگین ہے کیونکہ اس وقت سعودی عرب اور صدر ٹرمپ میں معاملہ نہیں رہا ہے، لیکن یہ ایک سفارتی تنازع بن گیا ہے، جو امریکہ کے اندر اندر دباؤ رہا ہے. دوسرے یورپی ممالک اقوام متحدہ کے ساتھ سعودی عرب پر دباؤ بھی کر رہے ہیں

جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت میں سعودی عرب کا ہاتھ ہے تو وہ اسے ‘سخت سزا’ دیں گے۔

اس کے جواب میں سعودی عرب نے بھی جوابی کارروائی کی دھمکی دی جس میں میڈیا کے ذریعے اطلاعات سامنے آئے کہ سعودی عرب ممکنہ طور پر تیل کی ترسیل روک سکتا ہے جس سے قیمتوں میں دگنا سے بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سٹریٹیجک اعتبار سے اہم علاقے تبوک میں روس کو اڈہ دینے پر تیار ہو سکتا ہے، ایران سے بات چیت شروع کر سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر امریکہ سے اسلحے کی خریداری روک سکتا ہے

جس پر صدر ٹرمپ نے دو دن پہلے کے سخت موقف میں ’ نرمی‘ لاتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا اور اس کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے سعودی عرب کا دورہ کیا۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment