اُساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے پر ایڈشنل ڈائریکٹر نیب لاہور کو معطل کر دیا گیا

ایڈشنل ڈائریکٹرنیب لاہور محمد رفیع کو چئیرمین نیب کی ہدایت پر معطل کیا گیا
نیب کورٹ میں پیشی کے موقع پر سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران سمیت دیگر اُساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے کے معاملے پر ایڈشنل ڈائریکٹر نیب لاہور کو معطل کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران سمیت دیگر اُساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے کے معاملے پر ایڈشنل ڈائریکٹر نیب لاہور محمد رفیع کو معطل کر دیا گیا ۔
محمد رفیع کو چئیرمین نیب کی ہدایت پر معطل کیا گیا ہے۔ چئیرمین نیب نے معاملے کی نئی انکوائری ٹیم تشکیل دینے کا بھی حکم دیا۔ یاد رہےکہ سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پنجاب یونیورسٹی میں 500 سے زائد بھرتیوں سمیت اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے نیب کے دفتر پہنچے۔

مجاہد کامران سمیت 6 ملزمان کو 13 اکتوبر کی صبح احتساب عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔ نیب میں پیشی کے وقت مجاہد کامران سمیت دیگر اُساتذہ کو ہتھکڑی لگا کر عدالت لایا گیا۔ جہاں نیب نے ملزمان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ۔ نیب کورٹ نے ملزمان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے نیب کے حوالے کر دیا۔ مجاہد کامران سمیت دیگر اُساتذہ کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کرنے کے معاملے پر نیب کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اس پر ایک نئی بحث چھڑ گئی جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور میں سابق وائس چانسلر اور پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر کو ہتھکڑی لگا کر احتساب عدالت میں پیش کرنے کا نوٹس لیا۔
پریس ریلیز کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈی جی نیب لاہور اور ڈی آئی جی آپریشن لاہور کو 13ستمبر کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری برانچ میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پروفیسرز کو نیب کی جانب سے ہتھکڑیاں لگانے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔لاہور رجسٹری میں سماعت کے دوران ڈی جی نیب نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے مجاہد کامران اور تمام اساتذہ سے معافی مانگ لی ہے۔
ڈی جی نیب عدالت میں پیشی کے دوران آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ مجاہد کامران کو سکیورٹی خدشات کے باعث ہتھکڑی لگائی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ سے متعلق بہت اچھے تاثرات سنے لیکن اب آپ کی انکھوں میں آنسو کیوں آ گئے؟ آپ قصوروار ہیں تو کیوں نہ آپ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے؟ آپ ضمانتیں کراتے پھریں گے اور آپ کو بھی ہتھکڑی لگے گی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیب نے کیا کام کیا؟ کیا کارردگی ہے؟ جس پر نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ ہم نے کرپشن کے خلاف بہت کام کیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہتھکڑی مجاہد کامران اور پروفیسرز کی موت ہے۔ جن اساتذہ کوہتھکڑیاں لگائیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بچوں کو تعلیم دی ہے۔ میں استاد کی بے حرمتی برداشت نہیں کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیس میں آپ نے کہاکہ کوئی بات نہیں،3 مہینوں میں چیف جسٹس چلا جائے گا۔
لیکن اب آپ کی انکھوں میں آنسو کیوں آ گئے؟ ڈی جی نیب عدالت میں آبدیدہ ہوگئے، عدالت کو بتایا کہ اساتذہ سے خود جاکر معافی مانگ لی ہے، چیف جسٹس نے تحریری معافی مانگنے کا حکم دیا تھا تاہم اب اُساتذہ کر ہتھکڑیاں لگانے کے معاملے پر ایڈشنل ڈائریکٹر نیب لاہور محمد رفیع کو معطل کر دیا گیا ہے۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment