ضمنی الیکشن،کس کا پلڑا بھاری

قومی اور صوبائی اسمبلی کے 35 حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے تیاریاں مکمل ہوگئیں ۔پاک فوج نے پولنگ ا سٹیشنوں کا کنٹرول سنبھال لیا ۔اتوار14 اکتوبر کو میدان سجے گا ۔641 امیدوار میدان میں ہیں ۔ قومی اسمبلی کی11 پنجاب اسمبلی کی 11 ،خیبر پختونخوا اسمبلی کی 9جبکہ سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کی 2، 2 نشستوںپر ووٹنگ ہو گی۔ پی پی 87 میانوالی میں ایک امیدوار کی وفات کے باعث الیکشن ملتوی کر دیا گیا۔ پی پی 296 راجن پور سے تحریک انصاف کے امیدوار اویس دریشک بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت اپوزیشن جماعتوں نے حکمران جماعت پی ٹی آئی کا مقابلہ کرنے کےلئے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لی ۔ پنجاب میں 2 حلقوں کے سوا پیپلز پارٹی کے تمام امیدوار مسلم لیگ ن کے حق میں دستبردار ہوگئے ۔سندھ میں مسلم لیگ ن نے اپنے امیدواروں کو پیپلز پارٹی کے حق میں دستبردار کیا ہے ۔خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے اور اے این پی کے امیدواروں کے حق میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لئے ۔ پنجاب میں رحیم یار خان اور تاندلیانوالہ میں پیپلز پارٹی کے امیدوار میدان میں رہیں گے۔ اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار علی اعوان کی پوزیشن کافی مضبوط ہے۔ رالپنڈی میں تحریک انصاف کے شیخ راشد شفیق کا مسلم لیگ ن کے امیدوار سجاد خان کے ساتھ کانٹے دار مقابلہ ہوگا ۔لاہور میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں خواجہ سعد رفیق اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی پوزیشن مضبوط ہے۔ کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ بنوں سے پی ٹی آئی چیرمین عمران خان کی جیتی ہوئی نشست پر سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کے بیٹے زاہد اکرم درانی کا مقابلہ تحریک انصاف کے امیدوار مولانا سید نسیم علی شاہ کے ساتھ ہے۔ حلقے میں تحریک انصاف کے باغی امیدوار ملک ناصر خان بھی میدان میں ہیں۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment