دس سال سے دیکھ رہا ہوں کہ ۔۔۔! اپنے لوگوں کو یوں مرتے نہیں دیکھ سکتا ! چیف جسٹس نے آخر اس طرف رخ کر ہی لیا جہاں عوام کب سے مسیحا کے انتظار میں تھی ؟بڑا حکم جاری

دس سال سے دیکھ رہا ہوں کہ ۔۔۔! اپنے لوگوں کو یوں مرتے نہیں دیکھ سکتا ! چیف جسٹس نے آخر اس طرف رخ کر ہی لیا جہاں عوام کب سے مسیحا کے انتظار میں تھی ؟بڑا حکم جاری

سپریم کورٹ میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عوام کی زندگی کا معاملہ ہے چیف سیکرٹری اوروزیراعلی سندھ کوبلا لیتے ہیں اپنے لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا‘عدالت نے سندھ حکومت کی جمع کرائی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے تھر میںغذائی قلت سے بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔عدالت عظمی میں سماعت کے دوران سیکرٹری ہیلتھ نے بتایا کہ ماں کی صحت ٹھیک نہیں،

بچوں کی پیدائش میں وقفہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ ورکرزصرف 40 فیصد علاقے میں کام کرتی ہیں، جن علاقوں میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کام کررہی ہیں وہاں اموات کم ہیں، ان علاقوں میں ماں کی صحت بھی بہتر ہے۔سیکریٹری ہیلتھ نے کہا کہ ماں کی غذا ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ہیموگلوبین کم ہوتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ مسئلہ حل کر نے کے لیے جو اقدمات کیے گئے وہ بتائیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ عوام کی زندگی کا معاملہ ہے چیف سیکرٹری اور وزیراعلی سندھ کوبلالیتے ہیں، ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہیں جوغیر جانبدار رپورٹ پیش کرے۔تھرکے رکن قومی اسمبلی رمیش کمارنے عدالت عظمی کو بتایا کہ میں بنیادی دیہی مراکز بنانا ہوں گے۔رمیش کمار نے کہا کہ تھروہ جگہ ہے جہاں پورے ملک میں ملنے والا ہر نشہ ملے گا، وزرات صحت کے بس کی بات نہیں دیگر اداروں کو شامل کرنا ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب بتائیں اس میں ہم کیا اقدمات کرسکتے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اسپتال بنائے جاتے ہیں وہاں ڈاکٹرنہیں ملے گا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشینیں بہت بڑی بڑی ہوں گی ان کا آپریٹرنہیں ہوتا، مٹھی کے ڈسٹرکٹ جج کو بلا کر پوچھ لیں کیا حال ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اپنے لوگوں کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا‘میں خود تھر کا دورہ کروں گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ چیف سیکرٹری سندھ خود حاضر ہوں۔ سندھ میں اس وقت شدید خشک سالی ہے بچے مررہے ہیں۔ سندھ کی موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے دس سال ہوچکے ہیں۔ دس سال میں اندرون سندھ عام آدمی کے لئے کچھ بھی نہیں کیا گیا سب کچھ کاغذی ہے عملی طور پرکچھ بھی نہیں کیا جارہا۔ تھر میں اس وقت خشک سالی ہے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا رپورٹس آتی رہتی ہیں مجھے حل بتائیں تھر جا کر بیٹھ جائوں گا کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر سندھ نے بتایا کہ کراچی میں بھی یہی حال ہے۔ چیف جسٹس نے کہا پہلے بھی پانچ بچے مر گئے تھے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں خوراک اور پانی کی فراہمی کا ذمہ دار کون ہے؟جنگی بنیادوں پر کام کریں ہمیں دیکھنا ہے کہ وہاں بچوں کی کیا ضروریات ہیں۔ پانی خوراک کے ٹرک بھجوائیں۔ چیف جسٹس نے کہا اربوں روپے لے کر سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے غذائی قلت سے بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی سماعت 11 اکتوبرتک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرچیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری فنانس ، سیکریٹری ہیلتھ ، اے جی سندھ، سیکریٹری پاپولیشن اورسیکریٹری ورک اینڈ سروسز کو طلب کرلیا۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment