کراچی میں خوف کی علامت غفار ذکری ،کمسن بیٹے اور ساتھی زاہد عرف بجلی سمیت مقابلے میں مارا گیا،ملزم کتنی وارداتوں میں ملوث تھا؟سنسنی خیز انکشافات

کراچی میں ڈھائی دہائی سے قتل، بھتے، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم کی وارداتوں میں مطلوب گینگ وار سرغنہ غفار ذکری کمسن بیٹے اور ساتھی سمیت مقابلے میں مارا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری کے علی محمد محلہ میں لیاری گینگ وار کا اہم ملزم پولیس مقابلے کے دوران اپنے ساتھی اور بیٹے سمیت ہلاک ہوگیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں سب انسپکٹر اور ایک اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید عالم اوڈھو کے مطابق لیاری کے علی محمد محلہ میں خفیہ اداروں کی نشاندہی پر سیکیورٹی اداروں نے سرچ آپریشن

کیا۔سرچ آپریشن کے دوران گینگ وار ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کردی اور دستی بم سے بھی حملہ کیا۔پولیس مقابلہ 2 گھنٹے سے زائد جاری رہا۔مقابلہ میں مارا جانے والا غفار ذکری قتل، اغوا، بھتہ خوری کی تقریبا 100 وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا۔سندھ حکومت نے شہر کے امن کے لیے دہشت کی علامت بن جانے والے غفار ذکری کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کررکھی تھی۔غفار ذکری کے ہلاک ہونے والے ساتھی کا نام چھوٹا زاہد عرف بجلی معلوم ہوا ہے، جو ناصرف غفار ذکری کا قریبی ساتھی تھا بلکہ ایک اہم کمانڈر بھی تھا۔ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اوڈھو کے مطابق گینگ وار سرغنہ غفار ذکری کی کئی دنوں سے علی محمد محلہ میں موجودگی کی اطلاعات تھیں، جس پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پولیس نے رینجرز کے ہمراہ علاقے کا گھیراؤ کیا تو ملزمان نے فائرنگ کردی، پولیس پر دستی بموں سے حملے کیے۔اس دوران دو ملزمان اور 3سالہ بچہ ہلاک جبکہ پولیس سب انسپکٹر اللہ دتہ اور کانسٹیبل میر عابد علی زخمی ہوگئے، لاشوں اور زخمی اہلکاروں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، سب انسپکٹر اللہ دتہ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے ۔سب انسپکٹراللہ دتہ کو پیٹ میں گولی لگی ہے۔ ایڈیشنل ڈی آئی جی جاوید اوڈھو کے مطابق پولیس آپریشن رات ایک بجے شروع ہوا اور چار گھنٹوں تک جاری رہنے کے بعد جمعرات کی علی الصبح پانچ بجے کے قریب مکمل ہوا۔جاوید اوڈھو کے مطابق ہلاک ہونے والا تین سالہ بچہ غفار ذکری کا بیٹا ہے، غفار ذکری نے پولیس محاصرے کے دوران بچے کو ڈھال بنا کر فرار ہونے کی کوشش کی اور دوران فائرنگ بھی کرتا رہا۔ بچے کی ہلاکت پر پولیس کو انتہائی افسوس ہے۔انہوں نے بتایا کہ غفارذکری کے دوساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق کچھ ملزمان فرار بھی ہو گئے ہیں جن کوگرفتار کر نے کے لیے گھر گھر تلاشی جاری ہے۔پولیس آپریشن کے بعد کراچی پولیس سربراہ امیر شیخ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ غفار ذکری قتل کے مقدمات، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان میں ملوث تھا اوراس پر100سے زائد مقدمات تھے، مقابلے میں غفار ذکری کا ساتھی بھی ہلاک ہوا، غفار ذکری کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے تھی۔ غفار ذکری نے کچھ عرصہ قبل رینجرز کے دو جوانوں کو شہید کیا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ لیاری گینگ وار ختم ہونے کے باوجود غفار ذکری کا زندہ رہنا اچھی علامت نہیں تھاپولیس اور ایک وفاقی حساس ادارے کی ٹیم نے گزشتہ کئی دنوں سے ریکی کی جس کے بعد آپریشن مکمل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ لیاری گینگ وار کمانڈر کے خلاف کارروائی میں 15 پولیس موبائلوں نے حصہ لیا۔ گرفتار اور مارے گئے ملزمان کے قبضہ سے ایس ایم جی گنیں، 16 ایوان بم، ایمونیشن اور دیگر اسلحہ کے علاوہ دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مقابلے کی جگہ سے گولیوں کے200 خالی راؤنڈملے ہیں۔ مقابلے میں غفارذکری کا ساتھی بھی ماراگیا، مقابلے میں بچے کوانسانی ڈھال کے طورپراستعمال کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اپیل کرتے ہوئے امیرشیخ نے کہاکہ ہماری خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی قربانیوں کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ آپریشن کے آغاز سے اب تک کراچی پولیس کے 647 جوان شہید ہو چکے ہیں۔آپریشن کے دوران بڑے مجرم مارے گئے ہیں تاہم ان کے کارندے اب بھی بکھری صورت میں موجود ہیں۔ ان مجرموں کا ذریعہ معاش جرائم ہی ہے، یہی صورتحال اب تک شہر میں جرائم کی موجودگی کی وجہ ہے۔ پولیس اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتی رہے گی۔انھوں نے بتایا کہ جن پولیس والوں نے مقابلے کیے ان کونشانہ بنایا گیا، آپریشن شروع ہونے کے بعد سے پولیس متحرک ہے اور رینجرز بھی تعاون کررہی ہے،شہرمیں امن آگیا ہے، بچے کھچے ملزمان سے ہماری جنگ جاری ہے۔کراچی پولیس چیف نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے ذریعے51بڑے ملزمان پکڑلیے ہیں۔ پولیس نے بڑاملزم مارکربہت بڑاکام کیاہے، کچھ عناصر تاثردینے کی کوشش کررہے ہیں کہ حالات بہت خراب ہیں۔کراچی پولیس سربراہ نے بچوں کے اغوا کی وارداتوں کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہاکہ بچوں کے اغوا کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ گزشتہ روز ایک لڑکی کے اغوا ہونے کی خبر کے بعد ہنگامہ آرائی کی گئی، یہ تاثر دیا گیا کہ شہر کے حالات بہت خراب ہیں۔ چند گھنٹوں بعد لڑکی بازیاب ہوئی تو معاملہ کچھ اور نکلا۔ ایک اور علاقے سے بچہ کے اغوا پر شور کیا گیا بعد میں علم ہوا کہ بچہ اپنے والد کے دوست کے ہمراہ گیا تھا۔ امیر شیخ نے کہاکہ ڈرامائی اغوا کاروں کی فہرست بنا رہے ہیں۔پولیس سربراہ نے کہا کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صورتحال خراب کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔کراچی پولیس سربراہ نے اعلان کیا کہ پولیس کی جانب سے آپریشن میں حصہ لینے والی ٹیم کو ملزم کے سر پر مقرر قیمت کے علاوہ 15 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دس لاکھ آئی جی سندھ اور پانچ لاکھ ان کی جانب سے دیئے جائیں گے۔واضح رہے کہ غفار ذکری بدنام زمانہ گینگ وار سرغنہ ارشد پپو کا قریبی ساتھی تھا۔ اس کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی، اس کے خلاف لیاری، اولڈ سٹی ایریا، ماڑی پور اور بلدیہ کے مختلف تھانوں میں متعدد سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔کراچی آپریشن کے بعد غفار ذکری روپوش ہوگیا تھا، رحمان ڈکیت، عذیر بلوچ، ارشد پپو اور بابا لاڈلہ کے بعد یہ اہم کردار تھا۔2010 تک غفار ذکری لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیز بلوچ کے گروہ کا حصہ رہا تاہم بعد میں اس نے ارشد پیو کے ہمراہ اپنا گروپ تشکیل دے دیا۔ 2013 میں کراچی آپریشن کے آغاز پر وہ روپوش ہوگیا تھا تاہم اس کی کارروائیاں جاری تھیں۔ ارشد پپو کے عزیر بلوچ گروپ کے ہاتھوں مارے جانے کے بعد غفار ذکری نے ارشد پپو گروپ کی کمان سنبھال لی تھی، جس کے بعد وہ اپنے اہداف کے لیے سرگرم عمل بتایا جاتا تھا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق حالیہ کراچی آپریشن کے بعد لیاری گینگ وار کے مختلف گروپ بشمول ارشد پپو گروپ تقریبا ختم یا بہت ہی کمزور ہوگئے ہیں۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment