نکاح پر نکاح، پہلے بیوہ اور پھر سوتیلی بیٹی سے شادی پر مقدمہ

نکاح پر نکاح، پہلے بیوہ اور پھر سوتیلی بیٹی سے شادی پر مقدمہ

نکاح پر نکاح، پہلے بیوہ اور پھر سوتیلی بیٹی سے شادی پر مقدمہ
پاکستان کی سپریم کورٹ کی تاریخ میں ایک منفرد مقدمہ سامنے آیا ہے جس میں شوہر نے پہلے ایک بیوہ خاتون سے شادی کی اور پھر کچھ عرصے کے بعد اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ بھی شادی کر لی۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقدمے سننا اور اس کی پیروی کرنا جج اور وکیل کی مجبوری ہے لیکن اس طرح کے مقدمات معاشرے پر کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑتے۔

جمعے کو جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور کے رہائشی وارث شاہ نے 40 سالہ بیوہ خاتون شہر بانو سے عشق کیا اور پھر جنوری سنہ 2015 میں اس سے شادی کی۔ شہر بانو سے شادی کے ڈھائی سال کے بعد اگست سنہ 2017 میں وارث شاہ نے 22 سالہ اپنی سوتیلی بیٹی سمیرا سے شادی کرلی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وارث شاہ نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق بھی نہیں دی۔

شہر بانو کو جب دوسری شادی کا علم ہوا تو پہلے تو دونوں میاں بیوی میں جھگڑا رہنے لگا۔ شہر بانو نے اپنے شوہر وارث شاہ اور اپنی سوتن یعنی اپنی بیٹی کے خلاف نکاح پر نکاح کا مقدمہ درج کروا دیا۔

اس مقدمے میں ملزم وارث شاہ کی ضمانت سپریم کورٹ تک مسترد ہوچکی ہے جبکہ سمیرا کی ضمانت پشاور ہائی کورٹ نے منظور کی تھی۔

سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمہ سمیرا کے وکیل صدیق بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے اس بارے میں تو فیڈریل شریعت کورٹ ہی فیصلہ دے سکتی ہے لیکن عدالت کے سامنے معاملہ سمیرا کی حوالگی کا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات نہ صرف شرمندگی کا باعث ہیں بلکہ یہ لمحہ فکریہ بھی ہے
بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کیسے ممکن ہے کہ ایک مرد ایک عورت سے شادی کرے بعد میں اس کی بیٹی سے بھی شادی کر لے۔

صدیق بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر سمیرا کو اس کی والدہ جو اب اس کی سوتن ہے، کے ساتھ بھیجتے ہیں تو لڑائی کا خطرہ ہے اس لیے اگر عدالت مناسب سمجھے تو سمیرا کو اس کے سسرال والوں کے ساتھ بھیج دیا جائے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات نہ صرف شرمندگی کا باعث ہیں بلکہ یہ لمحہ فکریہ بھی ہے کہ اسلامی معاشرہ کیوں زوال کا شکار ہو رہا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ دارالامان کا ماحول ایسا ہے کہ لڑکی کو وہاں پر نہیں بھیجا جا سکتا۔ عدالت نے ہری پور پولیس کے سربراہ کو حکم دیا کہ وہ سمیرا کی حفاظت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔

بینچ میں موجود ججز نے مشاورت کے بعد سمیرا کو اس کے سسرال والوں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

عدالتی فیصلے پر شہر بانو نے کمرہ عدالت میں شور ڈالنا شروع کر دیا جس پر عدالتی حکم پر وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے شہر بانو کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد جب سمیرا کمرہ عدالت سے باہر نکل رہی تھی تو ان کی والدہ شہر بانو ان سے الجھ پڑیں تاہم وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے بیچ بچاؤ کروایا۔

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے