بغیر تحقیق اتنی بڑی کہانی بنا کر میری نیک نامی تباہ کی گئی،میرے بیٹے پر الزامات ثابت ہوئے تومستعفی ہوجاؤں گا:میاں محمود الرشید

صوبائی وزیر ہاؤسنگ  پنجاب میاں محمود الرشید نے کہا ہے کہ پولیس گردی کے واقعات معمول بن گئے ہیں ،بغیر تحقیق اتنی بڑی کہانی بنا کر میری نیک نامی تباہ کی گئی ،اگربیٹے یا کسی نے بھی کوئی جرم کیاہے توقانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے،میرے بیٹے پرالزامات  ثابت ہو گئے  تومستعفی ہوجاؤں گا۔

صوبائی وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید نے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میرے بیٹے کے بارے میں جو الزام لگایا جارہا ہے، وہ من گھڑت ہے،میں نے بیٹے کو فوری طور پر کہا ہے وہ گلبرگ تھانے جاکر شامل تفتیش ہو،ہماری طرف سے تفتیش اور تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا عادل کسی غیر اخلاقی حرکت میں ملوث نہیں ،جان بوجھ کر میرے بیٹے کو گلبرگ واقعہ میں گھسیٹا جا رہا ہے ،بیٹا عادل کسی غیر اخلاقی حرکت میں ملوث نہیں ،وہ اس وقت موقع پر پہنچا جب پولیس نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ کر تھانے نہ جانے کا کہا،میڈیا میں حقائق کو تبدیل کر کے پیش کیا گیا ،اگر میرا بیٹا عادل پر الزامات ثابت ہوئے تو وزارت چھوڑ دوں گا۔انہوں نے کہا کہ سوموار کے روز میرا بیٹا گلبرگ میں اپنے ایک ڈاکٹر دوست کے گھر میں موجود تھا ،اسے فون آیا کہ اس کے دوست علی کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے جس پر میرا بیٹا عادل وہاں پر گیا ،میں نے خود پولیس والوں سے مل کر واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کیں، پولیس  نے بھی میرے بیٹے کے واقعے میں ملوث ہونے کے بارے میں نہیں کہا ۔انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے عادل کے کلاس فیلوز  لڑکے اور لڑکیاں  مین بلیوارڈ گلبرگ میں بننے والے ایک نئے ریسٹورنٹ میں چائے پینے کے لئے گئے تھے ،اس وقت میرا بیٹا اپنے ڈاکٹر دوست کے گھر پر موجود تھا جبکہ باقی کچھ دوست ریسٹورنٹ پہنچ گئے تھے جبکہ علی اور اس کی کلاس فیلو لڑکی گاڑی میں ریسٹورنٹ جا رہے تھے کہ راستے میں سول کپڑوں میں موٹر سائیکل سوار پولیس اہلکاروں نے علی کی گاڑی روک لی اور ایک پولیس اہلکار زبردستی گاڑی میں سوار ہو گیا اور اس نے علی کو کہا کہ لڑکی کو لے کر کہاں جا رہے ہو؟جس کے بعد تینوں اہلکاروں نے انہیں ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا ،بعد ازاں وہ پولیس اہلکار گاڑی کو ایک سنسان جگہ پر لے گئے اور علی پر شدید تشدد کیا اور اس کی ویڈیو بنانے کے لئے اس کی شلوار اتارنے کی کوشش کی ،پولیس اہلکاروں نے  علی سے 50 ہزار روپے کا مطالبہ بھی کیا ،جس پر علی نے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں، پولیس اہلکاروں نے علی کی جیب سے 2 ہزار روپے بھی نکال لئے ،اس دوران لڑکی نے موقع ملتے ہی فون کر کے اپنے باقی دوستوں کو آگاہ کیا تو  وہ سب موقع پر پہنچ گئے  جس پر 2 پولیس اہلکار فرار ہو گئے جبکہ ایک کو پکڑ لیا گیا،میرے بیٹے کو پولیس اہلکاروں نے معاملہ رفع دفع کرانے کا کہا ،پولیس والوں نے معافی مانگی تھی جس کی وجہ سے میرا بیٹا تھانے میں نہیں گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں جس گاڑی کا ذکر کیا گیا ہے وہ میرے نام پر ہے جو میں نے بیٹے کو دی تھی ،بیٹے پر من گھڑت اور جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے،بیٹا شامل تفتیش ہوگا اور پولیس کی انکوئری مکمل کرنے کے لیے ہماری ہر طرح سے سپورٹ  کسی دباؤ کے بغیر پولیس کے ساتھ ہے ۔

واضح رہے وزیرہاوسنگ پنجاب میاں محمودالرشیدکے بیٹے پرتھانہ غالب مارکیٹ میں مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ پولیس اہلکاروں کواغوااورتشددکی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے،ایف آئی آر کے مطابق  پولیس اہلکاروں نے معمول کے گشت کے دوران دو روز قبل میاں عادل کو برہنہ حالت میں ایک لڑکی کے ساتھ فحش حرکات کرتے ہوئے پکڑا تھا،وزیر ہاوسنگ کے بیٹے نے فون کرکے دوستوں کو بلا یا اورتشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے سرکاری اسلحہ ، موبائل فون ، وائرلیس سیٹ چھیننے کے بعد زبردستی اپنی پرائیویٹ گاڑی میں ڈال کر اغوا کر کے فرار ہوگئے

اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں

یہ بھی پڑھیے

Leave a Comment